کرناٹک میں جعلی ادویات کا بڑا ریکٹ بے نقاب، سالانہ کاروبار ₹15 کروڑ سے زائد
ایس آئی ٹی نے جمعہ کو کرناٹک، ہریانہ، مہاراشٹرا، تمل ناڈو، ہماچل پردیش اور تلنگانہ سمیت مختلف ریاستوں میں 10 مقامات پر چھاپے مارے۔
بنگلورو: کرناٹک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے جعلی ادویات کے ریکٹ کے اہم ملزم ویریش کمار جین سے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کو چلا رہا تھا، جو ریاست بھر میں میڈیکل اسٹورز اور پرائیویٹ اسپتالوں کو نقلی گولیاں، سیرپ اور دیگر ادویات سپلائی کرتا تھا۔
تحقیقات کے مطابق، جین کو اتوار کے روز اس کی املاک پر چھاپوں کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ وہ پرشانت اور دیگر افراد کو ہدایات دیتا تھا اور پورے ریکٹ کے معاملات کو سنبھالتا تھا۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ملزمان کی جانب سے تیار اور سپلائی کی جانے والی جعلی ادویات 80 سے زائد میڈیکل اسٹورز اور پرائیویٹ اسپتالوں تک پہنچائی گئی تھیں۔
مبینہ طور پر جعلی ادویات کی سپلائی بنگلورو کے متعدد میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو بھی کی گئی، جس سے ان مریضوں کی صحت کے بارے میں تشویش پیدا ہوگئی ہے جنہوں نے ممکنہ طور پر یہ غیر معیاری یا جعلی ادویات استعمال کی ہوں گی۔
ایس آئی ٹی اس پورے نیٹ ورک کی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ جین اور دیگر ملزمان کے کردار کا تعین کیا جاسکے، جو جعلی ادویات کی تیاری، سپلائی اور تقسیم میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔
تفتیش کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ اس ریکٹ کا سالانہ کاروبار ₹15 کروڑ سے زیادہ تھا۔ ایس آئی ٹی اب جین سے مالی لین دین اور اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ وسیع نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
پولیس جین سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ریکٹ میں ملوث مزید افراد کی شناخت کی بھی کوشش کر رہی ہے۔
ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں جعلی ادویات کے ذرائع، ان کی سپلائی چین، تقسیم کے نیٹ ورک اور ان میڈیکل اسٹورز و اسپتالوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا جہاں مبینہ طور پر یہ ادویات پہنچائی گئی تھیں۔
بنگلورو کے مضافات میں رام نگر ضلع کے ڈوڈیری میں حال ہی میں سامنے آنے والے جعلی ادویات کے ریکٹ کی تحقیقات کے سلسلے میں ایس آئی ٹی نے جمعہ کو کرناٹک، ہریانہ، مہاراشٹرا، تمل ناڈو، ہماچل پردیش اور تلنگانہ سمیت مختلف ریاستوں میں 10 مقامات پر چھاپے مارے۔
یہ کارروائی جاری تحقیقات کے تحت ایس آئی ٹی اور ڈرگس کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے مشترکہ طور پر انجام دی۔
تلاشی کی کارروائی میں تقریباً 80 سے 100 افسران اور عملہ شامل تھا۔ ٹیموں نے ان کمپنیوں سے منسلک دفاتر، املاک اور دیگر مقامات کی تلاشی لی، جن پر مبینہ طور پر جعلی ادویات کی تیاری، دوبارہ پیکنگ اور سپلائی میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
بنگلورو میں لال باغ کے قریب منیرا سرکل پر واقع ایک دوا ساز کمپنی کے احاطے میں بھی تلاشی لی گئی۔
حکام ان ادویات کی جانچ کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر مختلف مقامات سے حاصل کرنے کے بعد دوبارہ پیک کی جاتی تھیں اور پھر اس نیٹ ورک کے ذریعے سپلائی کی جاتی تھیں۔ تحقیقات میں مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی تعلق بھی سامنے آیا ہے، جس کے تحت جعلی ادویات کے لیبل بیرونِ ملک سے حاصل کیے جانے کا شبہ ہے۔
یہ چھاپہ ماری اس ریکٹ کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی جو تقریباً دو ہفتے قبل سامنے آیا تھا۔ تفتیش کار ادویات کی سپلائی چین، ان کے ذرائع، تیاری اور دوبارہ پیکنگ کے مراکز کے ساتھ ساتھ پورے تقسیم کار نیٹ ورک کی بھی جانچ کر رہے ہیں۔