حیدرآباد

جمعہ کے موقع پر بارانِ رحمت کے لیے خصوصی دعا کی اپیل: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

انہوں نے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے خود احتسابی اور نفس کے محاسبے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا نے کہا کہ جب انسان اپنی زندگی کے اعمال کا روزانہ جائزہ لینا شروع کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی سعی کرتا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤس، نامپلی کے خطیب و امام، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے ملک و ملت کے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ خشک سالی اور قحط کی صورتحال میں جمعہ کے دن خصوصی طور پر بارانِ رحمت کے لیے دعا کریں۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

مولانا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ موسمِ برسات جاری ہے، لیکن شہر و اطراف میں مسلسل بارش کا نہ ہونا ایک تشویشناک امر ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں اجتماعی طور پر توبہ و استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور رجوع کرنا چاہیے۔

انہوں نے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے خود احتسابی اور نفس کے محاسبے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا نے کہا کہ جب انسان اپنی زندگی کے اعمال کا روزانہ جائزہ لینا شروع کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی سعی کرتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ درود شریف ایک ایسا عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ ہر حال میں اجر عطا فرماتا ہے، حتیٰ کہ اگر کسی شخص کی نیت خالص نہ بھی ہو تب بھی اس پر ثواب ملتا ہے۔ مولانا نے تمام مسلمانوں سے گزارش کی کہ درود شریف کو اپنا روزمرہ کا معمول بنائیں، خاص طور پر ان ایام میں جب رحمت الٰہی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

مولانا صابر پاشاہ نے احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بارش اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی نشانی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوئی، وہ مومن ہے، اور جس نے اسے ستاروں یا کسی اور سبب سے منسوب کیا، وہ کافر ہوا۔”

مولانا نے قرآن کریم کی متعدد آیات کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ ہی بارش برساتا ہے، زمین کو شاداب کرتا ہے، خشک سالی کو خوشحالی میں بدلتا ہے اور مایوس دلوں کو امید کی روشنی عطا کرتا ہے۔ ان آیات میں بتایا گیا کہ قحط کے بعد بارش کا آنا صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ اللہ کی قدرت، ربوبیت اور بندوں پر اس کی خاص رحمت کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں، عاجزی اختیار کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور رب العالمین سے بارانِ رحمت کی دعا کریں۔

آخر میں مولانا نے تمام ائمہ کرام، علما، خطبا اور عوام الناس سے گزارش کی کہ وہ جمعہ کے خطبات میں بارش کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں اور عوام کو اللہ تعالیٰ سے رجوع اور دعا کی تلقین کریں۔