قومی

گرفتار شخص کے حقوق پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کسی گرفتار شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے آئین میں مقرر کردہ 24 گھنٹے کی مدت کا آغاز اس وقت سے ہوگا جب حقیقت میں اس کی آزادی سلب کی گئی ہو، نہ کہ پولیس کی جانب سے رسمی طور پر گرفتاری درج کرنے کے وقت سے۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کسی گرفتار شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے آئین میں مقرر کردہ 24 گھنٹے کی مدت کا آغاز اس وقت سے ہوگا جب حقیقت میں اس کی آزادی سلب کی گئی ہو، نہ کہ پولیس کی جانب سے رسمی طور پر گرفتاری درج کرنے کے وقت سے۔

یہ فیصلہ تریپورہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی چار افراد کی اپیلوں پر سنایا گیا، جنہیں نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت درج ایک مقدمے میں ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔

جسٹس اجول بھویان اور جسٹس اتل ایس چندرکر پر مشتمل بنچ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 22(2) کے تحت مقررہ 24 گھنٹے کی مدت کا حساب اس تاریخ اور وقت سے کیا جائے گا جب کسی شخص کو حقیقت میں حراست میں لیا گیا ہو، نہ کہ اس وقت سے جب تحقیقاتی ایجنسی نے باضابطہ طور پر گرفتاری درج کی ہو۔

آرٹیکل 22(2) کے مطابق گرفتار اور حراست میں لیے گئے ہر شخص کو گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر قریب ترین مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔اس مدت میں گرفتاری کی جگہ سے عدالت تک پہنچنے کے لیے درکار سفری وقت شامل نہیں ہوگا۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر اس مقررہ مدت سے زائد کسی شخص کو حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی شخص کی حراست مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے بغیر 24 گھنٹوں سے تجاوز کرجاتی ہے تو اسے فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔