تشکیل حکومت کیلئے اسرائیلی صدرہرزوگ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے مصدقہ نتائج تسلیم کرتے ہوئے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت شروع کردی ہے۔
یروشلم: اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے مصدقہ نتائج تسلیم کرتے ہوئے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت شروع کردی ہے۔
اس پیش رفت سے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی جانب سے انتخابی نتائج کو متنازعہ بنانے کی کوششوں کو دھچکہ لگا ہے۔ انتخابات میں کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 جبکہ ان کے حریف اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوئیں۔
حکومت سازی کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب عرب قیادت والی جماعتوں نے مجموعی طور پر ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کرکے سیاسی اہمیت اختیار کرلی ہے۔صدر ہرزوگ نے بدھ کو مختلف جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور حکومت تشکیل دینے کے لیے موزوں امیدوار کے نام پر سفارشات حاصل کیں۔
نیتن یاہو کی حامی تین مذہبی قوم پرست جماعتوں نے انہیں دوبارہ حکومت بنانے کا موقع دینے کی سفارش کی، جبکہ ایک جماعت نے آئزن کوٹ کی حمایت کی۔عرب قیادت والی جماعت رعام نے آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد انہیں 56 ارکان کی تائید حاصل ہونے کی توقع ہے۔ دوسری جماعت جوائنٹ لسٹ نے ابھی اپنا موقف واضح نہیں کیا۔
اس جماعت کی 11 نشستوں کی حمایت سے آئزن کوٹ مطلوبہ اکثریت حاصل کرسکتے ہیں۔ادھر انتہائی قدامت پسند یہودی جماعت دیگل ہتورہ نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا ہے۔ جماعت کے مطابق حکومت حریدی مردوں کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے کا قانون منظور کرانے میں ناکام رہی ہے۔
صدر ہرزوگ سیاسی جماعتوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد کسی ایک امیدوار کو حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپیں گے۔ نامزد امیدوار کو 28 دن میں حکومت بنانے ہوں گے، جس میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ناکامی کی صورت میں آئندہ سال کے اوائل میں دوبارہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا، نیتن یاہو اور ان کے حامیوں نے عرب قیادت والی جماعتوں پر انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم اسرائیلی الیکشن کمیشن نے تحقیقات کے بعد کہا کہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والی کسی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں ملا۔ اٹارنی جنرل نے بھی ٹھوس شواہد کے بغیر منتخب نمائندوں سے پوچھ گچھ کی درخواست مسترد کردی۔
صدر ہرزوگ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئے انتخابات سے بچنے کے لیے سمجھوتے کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے فلسطینی نژاد اسرائیلی شہریوں کے خلاف الزام تراشی سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ ملک کی تقریباً 20 فیصد آبادی پر مشتمل فلسطینی اقلیت کے لیے ان کے دل میں بہت احترام ہے۔