امریکی سیاست میں مسلمانوں کی نئی تاریخ، پہلی بار مسلمان سینیٹر سمیت سات امیدوار کامیاب
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں سات مسلم امیدواروں نے کانگریس کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں ایک امیدوار نے سینیٹ اور چھ نے ایوانِ نمائندگان کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں سات مسلم امیدواروں نے کانگریس کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں ایک امیدوار نے سینیٹ اور چھ نے ایوانِ نمائندگان کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
اس انتخابی نتیجے کی اہم پیش رفت امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی مسلمان کا سینیٹر منتخب ہونا ہے۔سب سے نمایاں کامیابی مصری نژاد ڈیموکریٹ رہنما عبدل السید کو حاصل ہوئی، جنہوں نے مشی گن سے ریپبلکن امیدوار مائیک روجرز کو شکست دی۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر عبدل السید صحتِ عامہ کے شعبے میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔
نیو جرسی سے مصری نژاد معالج آدم حموی ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئے۔ وہ اس ایوان میں ریاست کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔ وہ امریکی فوج میں ملٹری سرجن رہ چکے ہیں اور 2024 میں غزہ کے زخمیوں کے علاج کے لیے رضاکارانہ خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔
فلسطینی نژاد امریکی رکن رشیدہ طلیب نے مشی گن سے اپنی نشست برقرار رکھتے ہوئے پانچویں مدت کے لیے کامیابی حاصل کی۔ وہ کانگریس میں فلسطینی حقوق کے معاملے پر نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔منیسوٹا سے صومالی نژاد الہان عمر بھی پانچویں مدت کے لیے منتخب ہوئیں۔ وہ 2019 میں کانگریس پہنچنے والی پہلی صومالی نژاد امریکی خاتون بنی تھیں۔
انڈیانا سے آندرے کارسن نے بھی اپنی نشست برقرار رکھی۔ وہ 2008 سے ایوانِ نمائندگان کے رکن ہیں۔کیلیفورنیا سے شہری حقوق کی کارکن لطیفہ سائمن نے دوبارہ کامیابی حاصل کی، جبکہ نیویارک سے ڈومینیکن نژاد انسانی حقوق کی کارکن داریالیزا ابیلا شوفالیے نے ڈیموکریٹ امیدوار ادریانو اسپائیت کو شکست دے کر ایوانِ نمائندگان میں جگہ بنائی۔
ان کامیابیوں سے امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف نسلی اور سماجی پس منظر رکھنے والے ان سات منتخب نمائندوں کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔