200 یونٹ مفت بجلی اور 500 روپے میں سلنیڈر کے لئے دوبارہ درخواستیں شروع، کون ہیں اہل اور کون سے کاغذات ہیں ضروری
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے عوامی فلاح کو ترجیح دیتے ہوئے گروہاجیوتی اور مہالکشمی اسکیموں کے لیے دوبارہ درخواستوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت وہ تمام اہل افراد جو کسی وجہ سے اب تک ان اسکیموں سے فائدہ حاصل نہیں کر سکے تھے، اب ایک مرتبہ پھر درخواست دے سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مستحق خاندان سرکاری سہولتوں سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ درخواستوں کے عمل کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے ریاست کے تمام منڈلوں اور میونسپل وارڈوں میں سرکاری عہدیدار تعینات کیے گئے ہیں، تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکہ نے بتایا کہ جن افراد کو حال ہی میں نئے راشن کارڈ جاری ہوئے ہیں، وہ بھی اب ان دونوں اسکیموں کے لیے اہل ہوں گے۔
گروہاجیوتی اسکیم کے تحت گھریلو صارفین کو ہر ماہ 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو بجلی کے بلوں میں بڑی راحت ملے گی۔ اسی طرح مہالکشمی اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کو صرف 500 روپے میں گیس سلنڈر فراہم کیا جا رہا ہے، جو مہنگائی کے دور میں گھریلو خواتین کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
حکومت کے مطابق درخواست دینے کے لیے آدھار کارڈ، راشن کارڈ، تازہ بجلی بل، گیس پاس بک اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہوگا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ماضی میں کئی افراد دستاویزات کی کمی یا تکنیکی مسائل کے باعث ان اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے، لیکن اب ان تمام خامیوں کو دور کرتے ہوئے انہیں دوبارہ موقع دیا جا رہا ہے۔
تلنگانہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم خاص طور پر غریب، مزدور اور کم آمدنی والے خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے قریبی منڈل یا میونسپل وارڈ آفس سے رابطہ کریں اور تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ درخواست جمع کروائیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے ریاست میں سماجی انصاف مضبوط ہوگا اور عوامی فلاح کے اقدامات مزید مؤثر ثابت ہوں گے۔