حیدرآباد

گورنر کوٹہ سے ایم ایل سی بننے والے عامر علی خان اور کودنڈا رام کی تقرری منسوخ ،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملے پر باضابطہ احکامات جلد جاری کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ایم ایل سیز کی تقرریاں معطل ہو گئی ہیں اور معاملہ آئندہ عدالتی احکامات تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

حیدرآباد: ایم ایل سی تقرریوں کے معاملے میں سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے روز اہم فیصلہ سناتے ہوئے گورنر کوٹے سے تقرر پانے والے کودنڈا رام اور عامر علی خان کی تقرریوں پر حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ریونت ریڈی حکومت نے دونوں کو گورنر کوٹے کے تحت ایم ایل سیز کے طور پر نامزد کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو اُس وقت کے بی آر ایس امیدوار داسوجو شراون اور ستیہ نارائنا نے چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

متعلقہ خبریں
کودنڈا رام اور عامر علی خان کے حلف لینے پر امتناع میں توسیع
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطالعہ کیلئے کمیٹی تشکیل
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز

درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دونوں کی ایم ایل سی حیثیت اور ان کی حلف برداری کے عمل کو غلط قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے انتخاب پر حکمِ امتناع جاری کیا گیا تھا اور آئندہ احکامات کی روشنی میں ہی ان کا انتخاب یا تقرری برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ عدالت نے سابقہ عبوری احکامات میں ترمیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ عبوری حکم کے بعد حلف برداری کرنا درست نہیں تھا۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملے پر باضابطہ احکامات جلد جاری کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ایم ایل سیز کی تقرریاں معطل ہو گئی ہیں اور معاملہ آئندہ عدالتی احکامات تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔