سوشیل میڈیادہلی

کیا یہ اِس ملک کے لڑکے ہیں یا بڑے آتنگوادیاں ، مسلمانوں کے خلاف کھلے عام دھمکیاں(نفرت انگیز ویڈیو وائرل)

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر زیرِ بحث آ گئی ہے۔ کئی افراد نے اسے معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی کی مثال قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور حرکات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

نئی دہلی: سوشل میڈیا پر ایک تشویشناک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک تقریباً 14 سالہ ہندو لڑکا مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز باتیں کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مختلف حلقوں میں شدید تشویش اور بحث پیدا ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
لفٹ میں پھنسے نوجوان نے ایسا ردعمل دیا کہ لوگ حیران رہ گئے (ویڈیو)
کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کیلئے قرآن فہمی اور سیرتِ نبویؐ کا عملی مطالعہ ناگزیر: ڈاکٹر محمد قطب الدین
جنگ بدر: حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ، مرکز نالج سٹی میں عظیم الشان روحانی کانفرنس
رمضان المبارک کے انتظامات پر ضلع ایڈیشنل کلکٹر محبوب نگر  کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس
بی جے پی کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت

ویڈیو میں لڑکا عید اور مسلمانوں کے حوالے سے سخت اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس بار عید نہیں منانے دی جائے گی اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کی باتیں بھی کرتا ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی سنا جا سکتا ہے کہ وہ پولیس پر الزامات لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ پولیس کو مسلمانوں کی جانب سے ہفتہ وار رقم دی جاتی ہے۔

https://x.com/Muslim_ITCell/status/2031673466030587930

اس کے علاوہ ویڈیو میں عید کے موقع پر اشتعال انگیز حرکتیں کرنے اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے جیسی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ویڈیو میں موجود کچھ افراد لڑکے کی باتوں پر شور مچاتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر زیرِ بحث آ گئی ہے۔ کئی افراد نے اسے معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیزی کی مثال قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور حرکات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ویڈیو کہاں اور کب ریکارڈ کی گئی، تاہم شہریوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نفرت انگیز بیانات سماجی ہم آہنگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کے ذریعے اس طرح کی نفرت آمیز زبان کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں برداشت اور رواداری کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ کئی افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور نفرت انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔