حیدرآباد

حیدرآباد کے بازاروں میں آم کی آمد، قیمتوں میں اضافہ

عموما شہر کے بازاروں میں تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے کچے آم لائے جاتے ہیں تاہم موجودہ طورپر پڑوسی ریاست کرناٹک کے بنگالورو اور دیگرمقامات سے کچے آم حیدرآباد لائے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں قیمتوں میں اضافہ درج کیاگیا ہے۔

حیدرآباد: شہرحیدرآباد میں بازاروں میں کچے آم کی آمد ہوگئی ہے تاہم اس مرتبہ قیمتوں میں اضافہ دیکھاجارہا ہے۔ہر سال مارچ کے پہلے یا دوسرے ہفتہ میں کچے آم ریاستی دارالحکومت کے بازاروں میں نظرآیاکرتے تھے تاہم اس مرتبہ ان کی جلد آمد ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
تلنگانہ میں آن لائن جوئے اور سٹے بازی میں خطرناک اضافہ، PRAHAR نے ریاست گیر سروے کا اعلان کر دیا
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
عالمی یومِ خواتین پر خصوصی رپورٹ ساجدہ خان: بھارت کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر اور خواتین کے لیے ایک مثال

گذشتہ سال تلنگانہ میں آم کی پیداوار میں قابل لحاظ کمی دیکھی گئی تھی جس کے سبب اپریل کے اواخر تک بھی آم بازاروں میں نظرنہیں آرہے تھے۔عموما شہر کے بازاروں میں تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے کچے آم لائے جاتے ہیں تاہم موجودہ طورپر پڑوسی ریاست کرناٹک کے بنگالورو اور دیگرمقامات سے کچے آم حیدرآباد لائے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں قیمتوں میں اضافہ درج کیاگیا ہے۔

ایک کچے آم کی قیمت 20تا30روپئے دیکھی جارہی ہے تاہم آئندہ 10تا15دنوں کے دوران اس کی قیمت میں کمی کی توقع تاجروں نے کی ہے۔ ان تاجروں نے کہاکہ تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے حیدرآباد کے بازاروں میں کچے آم کی آمد ہنوز نہیں ہوئی ہے۔اندرون ایک ماہ تلنگانہ کے کچے آم کی آمد بازاروں میں ہوجائے گی۔

انہوں نے کہاکہ رسال، تیلاگلابی کچے آم بازاروں میں دیکھے جارہے ہیں۔آئندہ ماہ توقع ہے کہ مزید تین اقسام کے آم کی آمد ہوگی۔زرعی عہدیداروں نے کہاکہ گذشتہ سال آم کی کم پیداوار کے سبب اس کی قیمت میں اضافہ دیکھاگیا تھا تاہم اس مرتبہ پیداوار میں اضافہ کے نتیجہ میں قیمت میں کمی ہوگی۔