حیدرآباد

اسد اویسی بھاری اکثریت سے کامیاب، حیدرآباد کے عوام نے زہریلی زبان کاٹ دی

اگرچہ اس بار مقابلہ سخت ہونے کا امکان تھا مگر حیدرآباد کے عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا۔ تاہم حلقہ کی تشکیل کے بعد سے ہی اس نشست پر کانگریس اور ایم آئی ایم پارٹیوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا تھا۔

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور ایم پی امیدوار اسدالدین اویسی ایک بار پھر اپنے گڑھ حیدرآباد لوک سبھا سیٹ سے جیت گئے۔ انہوں نے بی جے پی امیدوار مادھوی لتا پر 3 لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

متعلقہ خبریں
اردو جرنلسٹس فیڈریشن کا ایوارڈ فنکشن، علیم الدین کو فوٹو گرافی میں نمایاں خدمات پر اعزاز
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
طاقت کے نشہ میں چور سرکش قوتیں مٹ جاتی ہیں، مسلمان تاریخ کے اوراق سے سبق لینا سیکھیں: مولانا حافظ پیر شبیر احمد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ

اگرچہ اس بار مقابلہ سخت ہونے کا امکان تھا مگر حیدرآباد کے عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا۔ تاہم حلقہ کی تشکیل کے بعد سے ہی اس نشست پر کانگریس اور ایم آئی ایم پارٹیوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا تھا۔

لیکن اس بار ایم آئی ایم اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ سخت ہونے کا امکان تھا۔ اس کی وجہ بی جے پی کی امیدوار مادھوی لتا ہیں۔ مادھولیتا کی مہم کے ساتھ ہی حیدرآباد نشست پر بحث شروع ہوگئی۔ بھلے ہی بی آر ایس اور کانگریس کے امیدوار میدان میں تھے لیکن وہ زیادہ اثر نہیں ڈال سکے۔ اس پس منظر میں کیا مادھوی لتا مجلس کے گڑھ کو توڑ کر تاریخ کو دوبارہ لکھے گی؟ سیاسی حلقوں میں کل تک اس کے چرچے بھی ہورہے تھے۔