شمال مشرق

آسام میں فارم 7 تنازع: 2026 انتخابات سے قبل SIR عمل پر سوالات، مسلم ووٹروں کے اخراج کے خدشات میں اضافہ

آسام میں اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) اور فارم 7 کے تحت ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملے نے یہ سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے

آسام میں اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) اور فارم 7 کے تحت ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملے نے یہ سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ عمل انتخابی فہرستوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہے یا خاموشی سے اصل اور جائز ووٹروں کو باہر کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
آسام کے اسمبلی حلقہ سماگوڑی میں بی جے پی اور کانگریس ورکرس میں ٹکراؤ
شہریت ترمیمی قانون اصل باشندوں پر اثرانداز نہیں ہوگا :سونووال
آسام میں سی اے اے مکمل طور پر غیر معمولی : ہیمنتا بسوا شرما
سرکاری فام حاصل کرنے قطار میں ٹھہری خواتین راہول سے ملنے دوڑپڑیں
آسام سے افسپا پوری طرح ہٹادینے مرکز سے سفارش

اس پورے تنازع کی بنیاد فارم 7 ہے، جس کے ذریعے کسی ووٹر کے نام پر اعتراض داخل کیا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ کار دراصل غلطیوں کی اصلاح کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اب اس پر الزام ہے کہ اسے بڑے پیمانے پر ووٹروں کو فہرست سے خارج کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسپیشل انٹینسو ریویژن ایک منظم عمل ہے جس کے ذریعے ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، جس میں گھر گھر جا کر تصدیق، دعوے اور اعتراضات، اور بوتھ لیول افسران کے ذریعے زمینی جانچ شامل ہوتی ہے۔ اسی عمل کے تحت فارم 7 استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے کسی ووٹر کے نام کو مردہ، منتقل شدہ یا نااہل قرار دے کر حذف کرنے کی درخواست دی جا سکتی ہے۔

تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب رپورٹس سامنے آئیں کہ یہ فارم بڑی تعداد میں استعمال ہو رہا ہے اور اکثر متاثرہ ووٹروں کو اس کی پیشگی اطلاع تک نہیں دی جا رہی۔ آسام کے کئی اضلاع میں تشویشناک رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں بعض افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے درجنوں بلکہ سیکڑوں ووٹروں کے خلاف ایک ساتھ اعتراضات داخل کیے۔

کئی ووٹروں کو ایسے نوٹس موصول ہوئے جن میں انہیں “مردہ” یا “منتقل شدہ” قرار دیا گیا، حالانکہ وہ زندہ ہیں اور اسی پتے پر رہائش پذیر ہیں۔ بعض خاندانوں نے بتایا کہ ایک ہی وقت میں گھر کے متعدد افراد کے نام حذف کرنے کے نوٹس موصول ہوئے۔ جنوری کے وسط تک حکام نے تصدیق کی کہ 50 ہزار سے زائد اعتراضات مسترد کیے جا چکے ہیں، جس سے مشکوک درخواستوں کے وسیع پیمانے کا اندازہ ہوتا ہے۔

دھوبری ضلع میں 20 ہزار سے زیادہ اعتراضات درج کیے گئے، جن میں بڑی تعداد مسلم اکثریتی علاقوں سے متعلق بتائی جا رہی ہے، جس سے منتخب نشانہ بنائے جانے کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ اسی طرح نگاؤں ضلع میں یہ الزام سامنے آیا کہ ایک ہی شخص نے ایک پولنگ بوتھ کے 60 سے زائد ووٹروں کے خلاف اعتراضات داخل کیے، جن میں خود بوتھ لیول افسران کے نام بھی شامل تھے۔

ان پیش رفتوں نے زمینی سطح پر نگرانی اور تصدیقی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ فارم 7 کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اقلیتی برادریوں کو کاغذی کارروائی کے دباؤ میں لایا جا رہا ہے تاکہ انتخابات سے قبل ووٹر شرکت کو کم کیا جا سکے۔

سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں نے بھی ان خدشات کی تائید کی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں لوگ پہلے ہی این آر سی جیسے عمل سے گزر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر نیا نوٹس پرانے خوف کو زندہ کر دیتا ہے اور شناخت و شہریت کے خدشات دوبارہ ابھر آتے ہیں۔

دوسری جانب، انتخابی حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ووٹر کا نام بغیر سماعت کے حذف نہیں کیا جا سکتا، ہر اعتراض کی بوتھ لیول افسر کے ذریعے تصدیق ضروری ہے، اور ووٹروں کو جواب دینے اور اپیل کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم زمینی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض علاقوں میں افسران پر دباؤ ڈالا گیا کہ اعتراضات کو تیزی سے نمٹایا جائے، چاہے دعوے مشکوک ہی کیوں نہ ہوں۔

انتظامیہ نے بعد میں عوامی طور پر خبردار کیا کہ جعلی فارم 7 اعتراضات غیر قانونی اور قابلِ سزا ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اس نظام کا غلط استعمال ہوا ہے۔ آسام کی انتخابی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ معاملہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں ووٹر شناخت ہمیشہ شہریت، تعلق اور سیاسی حقوق سے جڑی رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹ محض ایک قانونی حق نہیں بلکہ جمہوریت میں شہری کی پہچان ہے۔ SIR جیسے عمل میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بدعنوانی کے اثرات محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہتے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

آسام میں فارم 7 تنازع اب 2026 کے انتخابات سے قبل ایک سنجیدہ انتباہ بن چکا ہے۔ ہزاروں اعتراضات، مسترد شدہ درخواستیں، شناخت کے غلط استعمال کے الزامات اور عوامی اعتماد میں کمی نے اس ووٹر لسٹ نظرثانی کو ایک اہم انتخابی مسئلہ بنا دیا ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ آیا اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں یا خدشات مزید گہرے ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد بھی داؤ پر لگا رہے گا۔