بین الاقوامی
ٹرینڈنگ

وہ خوبصورت امریکی خاتون فوجی جس کے دیوانے لوگ تھے، چونکا دینے والی حقیقت جانئے

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں سنہرے بالوں والی ایک خاتون کو “جیسیکا فوسٹر” کے نام سے پیش کیا گیا، جسے امریکی فوج (US Army) کی بہادر سپاہی بتایا جا رہا تھا۔

نئی دہلی: انٹرنیٹ کی دنیا میں حالیہ دنوں ایک خوبصورت امریکی خاتون فوجی نے غیر معمولی شہرت حاصل کی، مگر بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ دراصل کوئی حقیقی شخصیت نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی ایک فرضی شناخت تھی، جس نے لاکھوں لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں سنہرے بالوں والی ایک خاتون کو “جیسیکا فوسٹر” کے نام سے پیش کیا گیا، جسے امریکی فوج (US Army) کی بہادر سپاہی بتایا جا رہا تھا۔ کبھی اسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا، تو کبھی روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے۔

تاہم واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ تمام تصاویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھیں۔ ان تصاویر میں جیسیکا کو آبنائے ہرمز میں ایک جنگی جہاز پر ہائی ہیلز پہنے چلتے، تقاریر کرتے اور دیگر خاتون فوجیوں کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں مصروف دکھایا گیا۔

حیران کن طور پر صرف چار ماہ کے اندر اس جعلی اکاؤنٹ نے دس لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر لیے، جن میں بڑی تعداد “میک امریکہ گریٹ اگین” (MAGA) کے حامیوں کی تھی۔ جب اس بارے میں امریکی فوج سے وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے واضح کیا کہ “جیسیکا فوسٹر” نامی کوئی بھی خاتون فوجی ان کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین اس کی خوبصورتی اور حب الوطنی کے پیغامات سے متاثر ہو کر تعریفیں کرتے رہے، جبکہ اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ یہ اکاؤنٹ مکمل طور پر جعلی ہے۔ بعض پوسٹس پر ہزاروں لائکس اور کمنٹس بھی دیکھنے میں آئے۔

مزید یہ کہ اکاؤنٹ کے حذف ہونے سے قبل یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسیکا فوسٹر کا پروفائل OnlyFans سے منسلک تھا۔ OnlyFans انتظامیہ کے مطابق شناخت کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے اس اکاؤنٹ کو ہٹا دیا گیا۔ اکاؤنٹ کے ختم ہوتے ہی اسی نوعیت کے مزید اے آئی سے تیار کردہ پروفائلز سامنے آنے لگے۔

یہ واقعہ کسی ایک مثال تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ TikTok، Instagram اور X جیسے پلیٹ فارمز پر ایسے درجنوں اکاؤنٹس موجود ہیں جو خود کو فوجی یا پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق بھی سینکڑوں اے آئی ویڈیوز گردش میں آئیں، جن میں خواتین کو فوجی کارروائیوں کا جشن مناتے دکھایا گیا، حالانکہ ایران میں خواتین کو جنگی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں۔

اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے الینوائے کے سابق ریپبلکن رکن کانگریس ایڈم کنزنگر نے کہا کہ “جیسیکا فوسٹر کوئی حقیقی فوجی نہیں بلکہ اے آئی ہے، مگر اس کے باوجود اس کے لاکھوں فالوورز ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ کس طرح آسانی سے مصنوعی مواد کے دھوکے میں آ رہے ہیں۔”

یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کا امتزاج کس طرح حقیقت اور فریب کے درمیان لکیر کو دھندلا رہا ہے، اور آنے والے وقت میں یہ چیلنج مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔