تلنگانہ

اندراما ہاؤسنگ اسکیم کے مستحقین پریشان، گاڑیوں کی ملکیت کے نام پر بلوں کی ادائیگی پر روک

تلنگانہ حکومت کی اندراما انڈلو ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکانات تعمیر کرنے والے ہزاروں مستحقین کو بلوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مبینہ طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے بعض مستحقین کو اس بنیاد پر بلوں کی منظوری نہیں دی جارہی ہے کہ ان کے نام پر چار پہیہ گاڑیاں موجود ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کی اندراما انڈلو ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکانات تعمیر کرنے والے ہزاروں مستحقین کو بلوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مبینہ طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے بعض مستحقین کو اس بنیاد پر بلوں کی منظوری نہیں دی جارہی ہے کہ ان کے نام پر چار پہیہ گاڑیاں موجود ہیں۔

بہت سے کیب ڈرائیورس اور منی وین چلانے والے افراد، جو اپنی روزی روٹی کے لیے گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور رہنے کے لیے اپنے مکان نہیں رکھتے، نے اندراما مکانات کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ مستحقین کا کہنا ہے کہ درخواست کے وقت انہیں اہل قرار دیا گیا اور اسی بنیاد پر انہوں نے قرض لے کر مکانات تعمیر کیے۔

تاہم مکانوں کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد جب بلوں کی ادائیگی کا مرحلہ آیا تو مبینہ طور پر انہیں چار پہیہ گاڑیوں کے مالک ہونے کی وجہ سے غریب طبقے کے لیے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے کا حوالہ دیتے ہوئے بلوں کی ادائیگی روک دی گئی۔

اس صورتحال سے متاثرہ مستحقین شدید الجھن اور مالی پریشانی کا شکار ہیں۔ بعض افراد نے مبینہ طور پر اپنی گاڑیاں فروخت کردیں، جبکہ کچھ نے گاڑیوں کی ملکیت دوسرے افراد کے نام منتقل کرکے حلف نامے بھی جمع کرائے، لیکن اس کے باوجود بلوں کی ادائیگی کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ "جب درخواست کے وقت ہمیں اہل قرار دیا گیا تو ہم نے قرض لے کر مکانات تعمیر کیے۔ اب نااہل قرار دے کر بل روک دیے گئے ہیں، تو ہماری صورتحال کا کیا ہوگا؟”

اطلاعات کے مطابق ریاست بھر میں تقریباً 20 ہزار مستحقین اسی طرح کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث پریشان ہیں۔

دوسری جانب مرکزی حکومت کی جانب سے اسکیم کے تحت ریاست کو ملنے والا حصہ جاری نہ ہونے کے باعث تلنگانہ میں تقریباً 1.5 لاکھ اندراما مکانات کے حتمی بل بھی زیر التوا ہیں۔ ان بلوں کی مجموعی مالیت 1,500 کروڑ روپے سے زائد بتائی جارہی ہے۔

ریاستی حکومت کا موقف ہے کہ جب تک مرکزی حکومت اپنا حصہ جاری نہیں کرتی، اس وقت تک حتمی بلوں کی مکمل ادائیگی مشکل ہے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر مرکزی حصہ موصول ہونے سے قبل ریاستی حکومت اپنے خزانے سے پوری رقم ادا کردیتی ہے اور بعد میں مرکز بھی رقم جاری کردیتا ہے تو ایک ہی مستحق کو دو مرتبہ ادائیگی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

نتیجتاً ریاست بھر میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ مکانات کے حتمی بلوں کی ادائیگی کا معاملہ التوا کا شکار ہے، جبکہ ہزاروں مستحقین حکومت سے اپنے مسائل فوری طور پر حل کرنے اور واجب الادا رقم جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔