16 سالہ کرکٹر کی جان بچانے والد نے گردہ عطیہ کیا، AINU ڈاکٹروں نے کامیاب ٹرانسپلانٹ انجام دیا
والدین کی محبت اور طبی ماہرین کی مہارت کی ایک متاثر کن مثال سامنے آئی ہے، جہاں حیدرآباد کے ملک پیٹ سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ انٹرمیڈیٹ طالب علم اور ابھرتے ہوئے کرکٹر کو کامیاب پری ایمپٹیو کڈنی ٹرانسپلانٹ کے ذریعے نئی زندگی ملی۔
حیدرآباد : والدین کی محبت اور طبی ماہرین کی مہارت کی ایک متاثر کن مثال سامنے آئی ہے، جہاں حیدرآباد کے ملک پیٹ سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ انٹرمیڈیٹ طالب علم اور ابھرتے ہوئے کرکٹر کو کامیاب پری ایمپٹیو کڈنی ٹرانسپلانٹ کے ذریعے نئی زندگی ملی۔ ایشین انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی اینڈ یورولوجی (AINU) کے ڈاکٹروں نے یہ کامیاب ٹرانسپلانٹ انجام دیا، جس کے لیے نوجوان کے والد خواجہ عاصم الدین نے اپنا گردہ عطیہ کیا۔
نوجوان کو بچپن سے ہی مثانے کی ایک پیدائشی خرابی لاحق تھی، جس کے باعث پیشاب کا گردوں کی جانب واپس جانے کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ وقت کے ساتھ اس بیماری نے اس کے گردوں کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا اور جسمانی نشوونما بھی متاثر ہوئی۔ بالآخر اس کی حالت اینڈ اسٹیج رینل ڈیزیز (ESRD) تک پہنچ گئی۔
نوجوان کرکٹ کا شوقین ہے، ویرات کوہلی کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے اور دوبارہ کرکٹ گراؤنڈ میں بولنگ کرنے کا خواب رکھتا ہے۔ ڈاکٹروں نے طویل عرصے تک ڈائیلاسس سے بچنے اور بہتر مستقبل کے لیے پری ایمپٹیو کڈنی ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا۔
بیٹے کی حالت کا علم ہوتے ہی والد خواجہ عاصم الدین نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مکمل طبی معائنے اور ڈونر میچنگ کے بعد 17 جون 2026 کو ٹرانسپلانٹ کی کامیاب سرجری انجام دی گئی۔ آپریشن کے بعد نوجوان کی صحت میں اطمینان بخش بہتری آئی اور اسے 25 جون کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔
اپنے تجربے کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ عاصم الدین نے کہا کہ بیٹے کی جان بچانے کے لیے گردہ عطیہ کرنا ان کے لیے ایک فطری فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کے دوران اپنے بیٹے کو اس کی تعلیم اور کرکٹ کے خوابوں سے دور ہوتے دیکھنا تکلیف دہ تھا، تاہم اب اس کی صحت یابی نے پورے خاندان میں نئی امید پیدا کردی ہے۔
AINU بنجارہ ہلز کے سینئر کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ و ٹرانسپلانٹ فزیشن ڈاکٹر سری کانتھ گنڈلاپلی نے کہا کہ طویل عرصے تک ڈائیلاسس کی ضرورت پیش آنے سے قبل پری ایمپٹیو کڈنی ٹرانسپلانٹ بچوں اور نوعمروں میں معمول کی جسمانی نشوونما، طویل عمر اور بہتر معیارِ زندگی کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
AINU کے مینیجنگ ڈائریکٹر، چیف کنسلٹنٹ یورولوجسٹ و روبوٹک سرجن ڈاکٹر ملّیکارجنا سی نے کہا کہ مریض کے ڈائیلاسس تک پہنچنے کا انتظار کرنے کے بجائے بیماری کی ابتدائی شناخت اور اس کے بڑھنے کے امکانات کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بروقت ٹرانسپلانٹ سے مریض کی صحت یابی بہتر ہوسکتی ہے اور وہ معمول کی زندگی کی جانب جلد واپس آسکتا ہے۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ صحت مند فرد کے لیے ایک گردے کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنا ممکن ہے اور لِونگ ڈونر کڈنی ڈونیشن ایک محفوظ اور ثابت شدہ طبی طریقہ ہے۔
فی الحال نوجوان گھر پر ٹرانسپلانٹ کے بعد مقررہ احتیاطی نگہداشت میں صحت یاب ہورہا ہے اور اپنی صحت کے ساتھ تعلیمی تیاری پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ ڈاکٹروں سے طبی اجازت ملنے کے بعد وہ دوبارہ کالج جانے اور مستقبل میں کرکٹ کے میدان میں واپسی کے لیے پُرامید ہے۔