تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی SIR کے عمل میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اب ایسے ووٹرس کو ہیئرنگ کے لیے الگ سے نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں ہیئرنگ کے لیے کسی دفتر جانے کی ضرورت ہوگی۔ اب بوتھ لیول افسران یعنی BLOs خود ووٹرس کے گھروں تک پہنچیں گے۔
SIR کے تحت تقریباً 92 لاکھ نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً 52 لاکھ نوٹس وصول ہوچکے ہیں اور ان سے متعلق ہیئرنگ کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے۔ باقی تقریباً 40 لاکھ افراد کے معاملے میں نوٹس دینے، ہیئرنگ کرنے اور ضروری دستاویزات حاصل کرنے کا عمل باقی تھا۔ اب اس طریقہ کار میں تبدیلی کردی گئی ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت BLOs خود ووٹرس کے گھروں تک جائیں گے۔ ووٹرس کو اپنے گھر پر موجود رہنا ہوگا اور BLOs کی جانب سے مانگے جانے والے ضروری دستاویزات انہیں فراہم کرنے ہوں گے۔ یہ دستاویزات BLOs خود آن لائن اپ لوڈ کریں گے اور ووٹر کے ریکارڈ میں موجود کسی بھی کمی یا غلطی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی گھر میں صرف ایک بالغ فرد موجود ہے تو وہ اپنے خاندان کے تمام افراد کی جانب سے ضروری دستاویزات BLO کو فراہم کرسکتا ہے۔
یعنی اب ووٹرس کو ہیئرنگ کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ BLOs خود گھر پہنچیں گے، ضروری دستاویزات حاصل کریں گے اور ریکارڈ میں موجود کمی یا خامیوں کو دور کرنے کا عمل گھر پر ہی مکمل کریں گے۔
البتہ تاریخوں میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔ پورے تلنگانہ میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے 7 اکتوبر آخری تاریخ مقرر ہے۔ جبکہ نوٹس، دعووں اور اعتراضات کے نمٹارے کے لیے 5 نومبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ اس کے بعد 9 نومبر کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔
اسی دوران ڈیکن ایڈووکیٹس فورم نے بھی اپنے اوپن ہاؤس پروگرام کو فی الحال روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب مزید اوپن ہاؤس پروگرام منعقد نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم SIR کے عمل کے دوران اگر مستقبل میں ضرورت محسوس ہوئی تو دوبارہ اوپن ہاؤس کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔
ڈیکن ایڈووکیٹس فورم کی جانب سے ان تمام وکلاء کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے اوپن ہاؤس پروگرام میں تعاون کیا۔ فورم نے تمام وکلاء کو مبارکباد بھی پیش کی اور کہا کہ اوپن ہاؤس پروگرام کی کامیابی میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔