دہلی

خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی معاملے کی دہلی پولیس کی کرائم برانچ تحقیقات کرے گی

ڈی سی پی نے بتایا کہ ہفتہ کی شام تقریباً چھ بجے تین خواتین نے خود کو صحافی بتاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حراست میں لیے جانے کے دوران دہلی پولیس کے حکام اور ملازمین نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور مارپیٹ کی

نئی دہلی :   دہلی پولیس نے اتوار کو بتایا کہ نئی دہلی علاقے میں ہفتہ کو ہوئے مظاہرے کے دوران تین خاتون صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں اور ان شکایتوں کو منصفانہ تحقیقات کے لیے کرائم برانچ کو بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس ڈپٹی کمشنر نیہا یادو نے بتایا کہ اس دن علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہونے کے باوجود آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) اور دیگر تنظیموں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو حکم کے بارے میں بتایا گیا تھا اور حکم امتناعی سے متعلق انہیں خبردار بھی کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی، بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ تاہم، مظاہرین کے انکار کرنے اور حکم کی تعمیل نہ کرنے پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو انہیں حراست میں لینا پڑا۔

ڈی سی پی نے بتایا کہ ہفتہ کی شام تقریباً چھ بجے تین خواتین نے خود کو صحافی بتاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حراست میں لیے جانے کے دوران دہلی پولیس کے حکام اور ملازمین نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔ اس کے بعد ان کی شکایت باقاعدہ درج کی گئی اور ان کا طبي معائنہ کرایا گیا۔ معاملے کو آگے تفصیلی جانچ کے لیے کرائم برانچ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

سینئر پولیس افسر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس سلسلے میں کوئی متعلقہ ویڈیو فوٹیج ہے تو وہ سامنے آ کر اسے کرائم برانچ کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے، جس سے تحقیقات میں مدد مل سکتی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ کرائم برانچ اب خواتین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی معاملے کی جانچ کے تحت ان کے اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔

اس دوران، انڈین ویمنز پریس کور (ائی ڈبلیو پی سی) نے ایک بیان جاری کر کے گزشتہ 3 اکتوبر کو جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران دہلی پولیس کے سینئر حکام کے ذریعہ خاتون صحافیوں کے ساتھ کیے گئے ‘جنسی ہراسانی اور چھیڑ چھاڑ کے فعل’ کی شدید مذمت کی۔ آئی ڈبلیو پی سی نے کہا کہ کم از کم ایک خاتون صحافی نے کیمرے کے سامنے جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور اس مبینہ فعل کے لیے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) سطح کے ایک افسر کا نام لیا ہے۔

آئی ڈبلیو پی سی نے کہا، "یہ چونکانے والی بات ہے کہ شکایت کے باوجود پولیس نے مذکورہ افسر کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی ہے۔ یہ معاملہ ابھی زیر التوا ہے۔” تنظیم نے مطالبہ کیا کہ بغیر کسی مزید تاخیر کے ایف آئی آر درج کی جائے