صحت

AIسے دوا پو چھنا پڑ سکتا ہے بھاری!

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کی جانب سے ستمبر میں ایک ایڈوائزری جاری کی گئی، جس میں اینٹی بایوٹکس کے غیر ضروری استعمال سے بچنے اور انہیں صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں، مناسب مقدار اور مقررہ مدت تک استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حیدرآباد: چیٹ جی پی ٹی یا دیگر مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے مشورہ لے کر خود سے اینٹی بایوٹک استعمال کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق غلط یا بار بار اینٹی بایوٹک استعمال کرنے کی وجہ سے کئی مریض بار بار ہونے والے پیشاب کے انفیکشن کے ساتھ اسپتال پہنچ رہے ہیں۔

اسی تشویش کے پیش نظر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کی جانب سے ستمبر میں ایک ایڈوائزری جاری کی گئی، جس میں اینٹی بایوٹکس کے غیر ضروری استعمال سے بچنے اور انہیں صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں، مناسب مقدار اور مقررہ مدت تک استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

عثمانیہ میڈیکل کالج کے شعبہ یورولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد جہانگیر کے مطابق تقریباً 100 مریضوں میں ہر ہفتے 2 سے 3 ایسے مریض سامنے آتے ہیں، جو بغیر مناسب طبی جانچ کے بار بار اینٹی بایوٹک استعمال کرتے رہے ہوتے ہیں۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ چیٹ جی پی ٹی یا کسی بھی اے آئی کی مدد سے خود سے اینٹی بایوٹک تجویز کرکے استعمال نہیں کرنی چاہیے اور مریضوں کو ماہر یورولوجسٹ، نیفرولوجسٹ یا جنرل فزیشن سے رجوع کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر جہانگیر کے مطابق بار بار پیشاب کا انفیکشن ہونے کی صورت میں صرف اینٹی بایوٹک کی طاقت بڑھاتے رہنا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔

بعض مریض علامات میں معمولی بہتری آنے کے بعد 3 یا 4 دن میں دوا بند کردیتے ہیں، جس سے علاج مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق بار بار ہونے والے انفیکشن کے پیچھے گردے یا پیشاب کی نالی کی پتھری، پروسٹیٹ کا مسئلہ یا مثانے میں پیشاب باقی رہ جانا جیسی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن کا براہ راست علاج ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے مریضوں میں یورین کلچر اور ضرورت پڑنے پر سسٹوسکوپی کے ذریعے انفیکشن کی وجہ اور جراثیم کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم کئی مریض یورین کلچر کی رپورٹ کا فالو اَپ نہیں کرتے، جسے آنے میں تقریباً 3 دن لگ سکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر عام اینٹی بایوٹکس اثر نہ کریں تو مزاحم انفیکشن کا علاج مشکل ہوجاتا ہے اور بعض معاملات میں جدید اور مہنگی ادویات کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

سرکاری ایڈوائزری میں بھی ڈاکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اینٹی بایوٹک کا انتخاب انفیکشن کی ممکنہ وجہ، متاثرہ حصے اور بیماری کی شدت کے مطابق کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر لیبارٹری ٹیسٹ اور مقامی سطح پر جراثیم کی دوا کے خلاف مزاحمت سے متعلق معلومات کو مدنظر رکھا جائے۔

غیر ضروری طور پر کئی اینٹی بایوٹکس ایک ساتھ استعمال کرنے، غلط دوا یا خوراک دینے اور ضرورت سے زیادہ عرصے تک علاج جاری رکھنے سے بھی گریز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔