تلنگانہحیدرآبادسوشیل میڈیا

ووٹر لسٹ پر بڑا خطرہ؟ گوشہ محل میں نام حذف کرنے والے فارم 7 سے نکلا چونکا دینے والا سراغ

تلنگانہ میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فارم 7 کو لے کر پہلے ہی سیاسی اور انتخابی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، لیکن اب گوشہ محل اسمبلی حلقہ سے سامنے آنے والی ایک دستاویز نے کئی نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فارم 7 کو لے کر پہلے ہی سیاسی اور انتخابی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، لیکن اب گوشہ محل اسمبلی حلقہ سے سامنے آنے والی ایک دستاویز نے کئی نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

گوشہ محل اسمبلی حلقہ کے کٹّل منڈی بوتھ سے متعلق فارم 7 کی درخواستوں کے فولڈر میں ایک ٹائپ شدہ کورنگ لیٹر ملا ہے، جس پر اسمبلی حلقہ کا نمبر اور بوتھ کا نام درج ہے۔

اس کورنگ لیٹر میں استعمال کیا گیا لفظ ’ودھان سبھا‘ اب تحقیقات کرنے والوں اور کانگریس کارکنوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ تلنگانہ میں سرکاری اور قانونی معاملات میں قانون ساز اسمبلی کے لیے عام طور پر ’ودھان سبھا‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی جاتی۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فارم 7 تلگو زبان میں پرنٹ کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ لگایا گیا کورنگ لیٹر انگریزی میں ہے۔ یہ کورنگ لیٹر کمپیوٹر سے پرنٹ کیا گیا ہے اور اس پلاسٹک فولڈر پر چسپاں ہے، جس میں فارم 7 رکھے گئے ہیں۔ اس مخصوص کورنگ لیٹر پر اسمبلی حلقہ اور بوتھ کا نام درج ہے، جبکہ بوتھ لیول ایجنٹ یعنی بی ایل اے کا نام اور فون نمبر بال پوائنٹ پین سے لکھا گیا ہے۔

اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر اس کورنگ لیٹر میں ’ودھان سبھا‘ کی اصطلاح کہاں سے آئی اور یہ فارم آخر کہاں پرنٹ کیے گئے۔

کانگریس کے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر پی راجیش نے کہا ہے کہ تلگو ریاستوں میں قانون ساز اسمبلی کے لیے ’ودھان سبھا‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی جاتی، اسی لیے یہ معاملہ سب کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ فارم کہاں تیار اور پرنٹ ہوئے۔

’ودھان سبھا‘ بنیادی طور پر ہندی زبان میں قانون ساز اسمبلی کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے، جو شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں عام ہے، جبکہ تلگو میں قانون ساز اسمبلی کو ’شاسن سبھا‘ کہا جاتا ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے فارم 7 کے ساتھ موجود اس کورنگ لیٹر نے مزید شکوک پیدا کردیئے ہیں۔

دوسری جانب، پہلے سے پرنٹ کیے گئے فارم 7 بڑی تعداد میں ملنے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بعض خوف زدہ بی ایل اے اب ایسے فارم پھینک رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تحقیقات کرنے والوں کو اہم سراغ بھی مل رہے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے اور پہلے سے پرنٹ شدہ فارم اس معاملے میں اہم ثبوت ثابت ہوسکتے ہیں۔

فارم 7 دراصل کسی ووٹر کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب ووٹر کا نام دو مرتبہ درج ہو، ووٹر کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوچکا ہو یا ووٹر کی موت ہوچکی ہو۔

تاہم حالیہ دنوں میں اس فارم کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ الزام ہے کہ ایک بی جے پی بی ایل اے کی جانب سے مبینہ طور پر فارم 7 پُر کرکے بوتھ لیول افسران کے پاس جمع کرائے گئے، جن میں مسلم ووٹروں کے نام بھی شامل تھے، جبکہ متعلقہ ووٹروں کو اپنے نام حذف کرنے کی کارروائی کا علم تک نہیں تھا۔

اسی معاملے میں مشیرآباد سے جمع کرائے گئے 30 ناموں کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نے منسوخ کردیا ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ حیدرآباد پولیس نے مبینہ طور پر بی جے پی کے ایک بی ایل اے کے خلاف پولیس کیس بھی درج کیا ہے۔

فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات کے بعد کانگریس اور مجلس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے بوتھ سطح کے کارکنوں کو بھی چوکس کردیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ اگر انہیں ووٹر لسٹ سے متعلق کوئی مشتبہ سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر اس کی اطلاع دی جائے۔