تلنگانہ
ٹرینڈنگ

وقف جائیدادوں پر جعلی این او سی کا معاملہ، تلنگانہ وقف بورڈ نے دی اہم وضاحت

تلنگانہ وقف بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جائیداد کو غیر وقف اراضی قرار دینے کے لیے وقف بورڈ کی جانب سے کوئی این او سی یعنی عدم اعتراض سرٹیفکیٹ یا کلیئرنس لیٹر جاری نہیں کیا جاتا۔ وقف بورڈ نے یہ وضاحت زمین کے لین دین میں مبینہ جعلسازی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان جاری کی ہے۔

تلنگانہ وقف بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جائیداد کو غیر وقف اراضی قرار دینے کے لیے وقف بورڈ کی جانب سے کوئی این او سی یعنی عدم اعتراض سرٹیفکیٹ یا کلیئرنس لیٹر جاری نہیں کیا جاتا۔ وقف بورڈ نے یہ وضاحت زمین کے لین دین میں مبینہ جعلسازی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان جاری کی ہے۔

وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ زمین مافیا کے بعض گروہ مبینہ طور پر جعلی این او سی یا کلیئرنس لیٹر تیار کرکے ریونیو، رجسٹریشن اور دیگر سرکاری محکموں میں پیش کر رہے ہیں اور ان دستاویزات کی بنیاد پر وقف جائیدادوں کے سودے اور رجسٹریشن کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وقف بورڈ نے واضح کیا کہ وقف ایکٹ 1995، وقف ترمیمی ایکٹ یا ان سے متعلق کسی بھی قواعد میں وقف بورڈ کو کسی جائیداد کے غیر وقف ہونے کا این او سی یا کلیئرنس لیٹر جاری کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ اس لیے وقف بورڈ کے نام سے جاری کیا جانے والا ایسا کوئی بھی این او سی یا کلیئرنس لیٹر قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہوگا اور اسے باطل تصور کیا جائے گا۔

وقف بورڈ نے تمام سرکاری محکموں، ریونیو اور رجسٹریشن حکام، اقلیتی بہبود کے محکمے، پولیس اور عام لوگوں کو بھی اس سلسلے میں محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جائیداد کو غیر وقف ثابت کرنے کے لیے وقف بورڈ کا این او سی یا کلیئرنس لیٹر پیش کرتا ہے تو اسے تسلیم نہ کیا جائے۔

وقف بورڈ نے رجسٹریشن حکام کو خاص طور پر ہدایت دی ہے کہ اگر ان کے سامنے وقف بورڈ کے نام سے جاری کوئی این او سی یا ایسی دستاویز پیش کی جاتی ہے تو اس کی اصلیت کی تصدیق کے لیے اسے براہ راست وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو بھیجا جائے۔ حکام کو کسی بھی مبینہ این او سی کی بنیاد پر کارروائی نہ کرنے اور ایسے دعووں کو قانونی طور پر باطل سمجھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بورڈ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جعلی کلیئرنس یا این او سی کی بنیاد پر ہونے والی کسی دھوکہ دہی یا غیر قانونی لین دین کی ذمہ داری تلنگانہ وقف بورڈ پر عائد نہیں ہوگی۔ ایسی کارروائیوں کی ذمہ داری متعلقہ محکموں اور ان افراد پر ہوگی جو ان دستاویزات کو استعمال کریں گے۔

وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ جعلی دستاویزات کی گردش کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد یہ احتیاطی نوٹ جاری کیا گیا ہے، تاہم اب تک بورڈ کے پاس ایسی کسی جعلی این او سی یا کلیئرنس لیٹر کی اصل کاپی نہیں پہنچی ہے۔ بورڈ نے یہ وضاحت سرکاری افسران کو خبردار کرنے کے مقصد سے جاری کی ہے تاکہ وقف اراضی سے متعلق کسی بھی لین دین سے پہلے دستاویزات کی مکمل جانچ کی جاسکے۔