حیدرآباد

2013 کے ’15منٹ‘ والے ریمارک پر دوبارہ بوال، بی جے پی کارپوریٹر نے کی اکبرالدین اویسی کے خلاف پولیس میں شکایت

یہ شکایت سرورنگر ڈویژن کی نمائندہ اکولا سریوانی نے درج کرائی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اکبرالدین اویسی نے وقتاً فوقتاً اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں، جن میں ’15 منٹ‘ کا متنازعہ بیان بھی شامل ہے۔

حیدرآباد میں ایک بار پھر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے جب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کی ایک کارپوریٹر نے اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے اکبرالدین اویسی کے خلاف ان کے متنازعہ ’15 منٹ‘ کے بیان پر باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ یہ بیان اگرچہ 2013 کا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں دوبارہ زیرِ بحث آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
ویڈیو: ملک کے موجودہ حالات نازک : اکبر الدین اویسی
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا

سرورنگر کی GHMC کارپوریٹر کی جانب سے شکایت
یہ شکایت سرورنگر ڈویژن کی نمائندہ اکولا سریوانی نے درج کرائی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اکبرالدین اویسی نے وقتاً فوقتاً اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں، جن میں ’15 منٹ‘ کا متنازعہ بیان بھی شامل ہے۔

’15 منٹ‘ کا بیان کیا تھا؟
یہ بیان 2013 میں ایک تقریر کے دوران دیا گیا تھا، جس میں اکبرالدین اویسی نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر پولیس کو صرف “15 منٹ” کے لیے ہٹا لیا جائے تو ان کی برادری یہ دکھا دے گی کہ وہ کیا کر سکتی ہے۔ اس بیان پر اُس وقت بھی شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور آج بھی اسے اشتعال انگیز قرار دیا جاتا ہے۔

شکایت میں لگائے گئے الزامات
شکایت کے مطابق:

  • یہ بیان فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز نوعیت کا ہے
  • اس طرح کے بیانات عوامی امن و امان کو متاثر کر سکتے ہیں
  • ایسے بیانات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت قانونی کارروائی ضروری ہے

کارپوریٹر نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بیانات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے۔

سیاسی ردعمل میں تیزی
اس شکایت کے بعد حیدرآباد کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی رہنما اور عوام اس بات پر گفتگو کر رہے ہیں کہ اس طرح کے بیانات قانون و امان پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر سیاسی بیانات اور ردعمل میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

آگے کیا ہوگا؟
حکام کی جانب سے امکان ہے کہ:

  • شکایت اور متعلقہ بیانات کا جائزہ لیا جائے گا
  • قانونی یا ضابطہ جاتی کارروائی پر فیصلہ کیا جائے گا
  • یہ پرکھا جائے گا کہ آیا یہ بیانات موجودہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں

اکبرالدین اویسی کے ’15 منٹ‘ کے بیان سے جڑا یہ تنازع ایک بار پھر عوامی زندگی میں سیاسی ذمہ داری اور محتاط اظہارِ خیال کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔