حیدرآباد میں بلنکٹ ڈیلیوری بوائے حبیب انصاری کے ساتھ مبینہ مارپیٹ (ویڈیو)
مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان سے ملاقات کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات بتائیں۔ امجد اللہ خان نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں الزام لگایا کہ اب تک اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔
حیدرآباد۔ شہر کے رائے درگم پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک ڈیلیوری بوائے کو مبینہ طور پر مسلم ہونے کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہوئے حملہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ نوجوان کی شناخت حبیب انصاری کے طور پر ہوئی ہے، جو بلنکٹ (Blinkit) میں ڈیلیوری ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرتا ہے۔ الزام ہے کہ تقریباً 10 افراد کے ایک گروپ نے پہلے اس کا نام پوچھا اور مسلم ہونے کا علم ہونے پر اس کے ساتھ مارپیٹ کی۔
تفصیلات کے مطابق، بہار کے ضلع بانکا سے تعلق رکھنے والا حبیب انصاری گزشتہ پانچ سال سے حیدرآباد کے علاقہ گولکنڈہ میں مقیم ہے۔ 3 نومبر کی رات تقریباً 11 بجے ایک آرڈر کی ڈیلیوری مکمل کرنے کے بعد وہ رائے درگم پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع پنچ وتی کالونی کے گودام کی جانب واپس جا رہا تھا۔ اسی دوران اسے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں، جس پر وہ رک کر صورتحال دیکھنے لگا۔
حبیب کے مطابق، اسی دوران تقریباً 10 افراد نے اسے گھیر لیا اور اس کا نام دریافت کیا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہے تو مبینہ طور پر اس پر حملہ کردیا گیا۔ جان بچانے کے لیے وہ سڑک کنارے واقع ایک ہوٹل میں داخل ہوگیا، لیکن حملہ آور وہاں بھی پہنچ گئے اور ہوٹل میں موجود گاہکوں اور باورچی کے سامنے اسے باہر گھسیٹ کر لے آئے اور مارپیٹ کی۔ اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آنے کی اطلاع ہے۔
حبیب نے بتایا کہ حملے کے دوران اس نے مدد کے لیے اپنے بھائی کو فون کیا، لیکن وہ اپنی لوکیشن بتا پاتا، اس سے پہلے ہی حملہ آوروں نے اس کا موبائل فون چھین لیا۔ تاہم، فون کال منقطع نہیں ہوئی تھی۔
مقامی افراد زخمی حبیب کو رائے درگم پولیس اسٹیشن لے گئے، جہاں ایک سب انسپکٹر نے پولیس عملے کو طبی معائنے کے لیے بھیجنے کی ہدایت دی۔ حبیب کا الزام ہے کہ طبی معائنے کے بعد جب وہ دوبارہ پولیس اسٹیشن پہنچا تو حملہ آور بھی وہاں موجود تھے اور شکایت درج کرانے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پولیس اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔
حبیب نے مزید الزام لگایا کہ ایک کانسٹیبل نے شکایت درج نہ کرانے کے لیے اس سے 1500 روپے لیے اور اس کا موبائل فون چھین کر توڑ دیا۔
6 نومبر کو حبیب نے مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان سے ملاقات کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات بتائیں۔ امجد اللہ خان نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں الزام لگایا کہ اب تک اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے ایسے واقعات کا ایک سلسلہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مسلمانوں کو گھیر کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن شکایات درج ہونے کے باوجود مؤثر تحقیقات اور گرفتاریاں نہیں ہو رہی ہیں۔
نوٹ: اس خبر میں بیان کردہ الزامات متاثرہ نوجوان اور ایم بی ٹی ترجمان کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق اور پولیس کا باضابطہ موقف سامنے آنا باقی ہے۔