درخشاں بھارت کا بجٹ،ٹیکسٹائل وکست بھارت کو رفتار دینے والاشعبہ: گری راج سنگھ
بجٹ 2026 ء ٹیکس ایکوپہل کے ذریعے ٹیکسٹائل کے شعبے میں ڈیزائن کے اصول کے طور پر پائیداری کو بھی شامل کرتا ہے، ویلیو چین میں ماحولیات کے تئیں ساز گار ذمہ دارانہ طریقوں کو مربوط کرتا ہے اور پائیداری کو مستقبل کی برآمدی مسابقت کے کلیدی محرک کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
نئی دہلی: وکست بھارت کابجٹ 27-2026 ء عالمی سطح پر غیر یقینی کی صورتحال کے اس دور میں اعتماد، پختہ عزم اور واضح اصلاحاتی سمت کا مظہر ہے۔ آج بھارت، دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت اور تیزی سے ترقی کرنے والی اہم معیشت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور مستقبل قریبمیں تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر ثابت قدمی سے گامزن ہے۔
4.5ٹریلین امریکی ڈالر کی معاشیحصہ داری، 7.2 فیصد متوقع شرحِ نمو، 750 ارب امریکی ڈالر سے زائد غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری(ایف ڈی ائی)اور سرمایہ جاتی اخراجات میں 2014 ء کے 1.9 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026 ء میں 12.21 لاکھ کروڑ روپے تک چھ گنا سے زیادہ اضافے کے ساتھ، یہ بجٹ بنیادی ڈھانچے پر مبنی ترقی کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یہ بجٹ ایک طرف معاشی استحکام اور دوسری طرف بھارت کی ترقیاتی سمت پر عالمی سطح کے پائیدار اعتماد کو اجاگر کرتا ہے۔ محض اعداد و شمار سے آگے بڑھتے ہوئے، بجٹ ایک واضح کلیدی ویڑن پیش کرتا ہے، جو جامع ترقی اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہے، جس کا محور مزدوروں پر مرکوز صنعتیں ہیں اور جن میں ٹیکسٹائل کا شعبہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
روایتی قوت سے لے کر اسٹریٹجک فائدہ تک – ٹیکسٹائل کا شعبہ، وِکست بھارت کی ترقی کے انجن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ عزت مآب وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں گزشتہ سال ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا۔ 18 ایف ٹی اے کے ذریعے، بھارت کو اب 800 ارب ڈالر کی درآمدات کے عالمی بازار میں تقریباً 466 ارب ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مارکیٹوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہے، جسے 110 ارب ڈالر کی امریکی بازار تک نئی رسائی سے مزید وسعت ملی ہے۔
بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے حالیہ اعلان سے توقع ہے کہ برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ سطح پر پہنچ جائیں گی۔ بازار تک رسائی سے تقویت حاصل کرتے ہوئے، کیو سی اوز کو ہٹانے سے عمل درآمد کے بوجھ کو کم کیا گیا ہے، جبکہ جی ایس ٹی اصلاحات نے طویل عرصے سے بے سمت محصول کے ڈھانچے کو درست کیا گیا ہے، جس سے یہ شعبہ فیصلہ کن طور پر فائبر – نیوٹرل طریقہ کار کیجانب بڑھ گیا ہے۔ ان اقدامات نے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ بجٹ، 2026 ء کو، جو چیز نتیجہ خیز بناتی ہے، وہ تسلسل اور پیمانہ ہے۔
کپاس کا پیداواری مشن اور وسیع پیمانے پراقتصادی اصلاحات جیسے اقدامات کو اب پائلٹس سے پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو ظاہر کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے، ٹیکسٹائل کو بڑی حد تک فلاح و بہبود کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ یہ ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں ٹیکسٹائل کو پیمانے، مسابقت اور طویل مدتی قومی ترقی کے لیے ایک بنیادی صنعتی حکمت عملی کے طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔
اس طرح کے اقدامات کا معاملہ واضح ہے۔ بھارت کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کی جی ڈی پی میں تقریباً 2.3 فیصد حصہ داری ہے، جو صنعتی پیداوار کا تقریباً 12فیصد ہے اور 5.2 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، جو اسے معیشت کا ایک اہم ستون بناتا ہے، جبکہ عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں بھارت کا حصہ تقریباً 4فیصد ہے۔ اس سے توسیع کی اہم گنجائش اجاگر ہوتی ہے۔
حکومت نے ٹیکسٹائل کے شعبے کو 2030 ء تک 350 ارب ڈالر تک اور برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ایک واضح اور درمیانی مدت کے اہم مقاصد وضع کئے ہیں۔ ویلیو چین کو مربوط کرنا، اصلاحاتی حکمت عملی کا پہلا ستون ہے، جو 2030 ء تک ٹیکسٹائل کے شعبے کی23 ایم ایم ٹی کی متوقع خام مال کی ضرورت کو پورا کرنے کے واضح مقصد پر مبنی ہے، جس میں قدرتی اور انسان ساختہ ریشے دونوں شامل ہیں۔ فائبر کی لاگت میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر ایم ایس ایم ایز کے لیے، فی الحال ان پٹ کی غیریقینی صورتِ حال کا تقریباً 25 سے 30فیصد ہے، جو براہ راست مارجن، پیداوار کی منصوبہ بندی اور برآمدی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ، بجٹ 2026 ء نیشنل فائبر اسکیم کے ذریعے، اس چیلنج سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یہ اقدامات کپاس، انسان کے بنائے ہوئے ریشوں اور ابھرتے ہوئے نئے دور کے ریشوں میں گھریلو دستیابی کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں اور فائبر سے لے کر تیار مصنوعات تک پوری ویلیو چین کو مستحکم کرتے ہیں۔ خام مال کی فراہمی کو مستحکم کرکے، بجٹ، مارجن کو بہتر بناتا ہے، منصوبہ بندی کییقین دہانی کو بڑھاتا ہے اور مینوفیکچررز کے لیے برآمدی قیمتوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے نیز اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ شعبہ مستقبل کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے پائیدار پیمانے پر فروغ پا سکے۔
ٹیکسٹائل کے شعبے کو فروغ کرنے سے روکنے والی ایکاہم رکاوٹ م پیداواری کلسٹروں پر انحصار کی اْس کی میراث ہے، جو پیداواری صلاحیت اور پیمانے کو محدود کرتے ہیں۔ مینوفیکچرنگ کی کارکردگی کو بڑھانے اور لاجسٹک لاگت کو کم کرنے کے لیے، ان ماحولیاتی نظاموں کو جدید بنانا ضروریہے۔ بجٹ 2026 ء ، ملک بھر میں 200 صنعتی کلسٹروں کی جدید کاری کے ذریعے، اس ضرورت کو براہ راست پورا کرتا ہے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کلسٹر پر مبنی مینوفیکچرنگ لیبر کی پیداواری صلاحیت کو 20 سے 25فیصد تک بڑھا سکتی ہے اور فییونٹ لاجسٹک لاگت کو 30 فی صد تک کم کر سکتی ہے۔
میگا ٹیکسٹائل پارکس، مشترکہ پروسیسنگ کی سہولیات اور پلگ اینڈ پلے ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر مقررہ لاگت کو کم کرتی ہے، جس سے چھوٹے پیمانے پر پیداوار کرنے والوں کو ہٹائے بغیر توسیع ممکن ہوتی ہے، جو مزدوروں پر مرکوز شعبے کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔ روزگارپیداکرنا اور افرادی قوت کی تیاری ٹیکسٹائل کے شعبے کی تبدیلی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
ٹیکسٹائل سرمایہ دارانہ صنعتوں کے مقابلے میں فی کروڑ سرمایہ کاری میں تقریباً 3 گنا زیادہ روزگار پیدا کرتا ہے اور مسلسل اقدامات نے پوری ویلیو چین میں ہنر مندی اور روزگار پیداکرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس کلسٹر پر مبنی ترقی کی مدد سے، ٹیکسٹائل کی توسیع اور روزگار اسکیم سے اگلے پانچ سالوں میں 2 سے 3 کروڑ اضافی روزگار پیدا کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔
صنعت کے لئے تیار 15 لاکھ کارکنوں کو تربیت دینے کے لئے 2026 ء اور 2031 ءکے درمیان2800 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ سمرتھ 2.0 کے ذریعے، اس رفتار کو مزید تقویت ملی ہے۔ این آئی ایف ٹی، آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایچٹیز، آئی ٹی آئیز اور ایس وی پی آئی ایس ٹی ایم کے ساتھ شراکت داری کو مستحکم کرکے، ہم 2030 ء تک ہنرمندی کے فرق کو 50فیصد تک کم کرنے کے مقصد سے ہنر مندی کو حقیقی پیداوار، ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کی ضروریات کے ساتھ مزید ہم آہنگ کریں گے۔
اس روزگار اور ہنر مندی کو فروغ دینے کے لیے، ٹیکسٹائل ویلیو چین میں کاروباری اداروں کے پاس توسیع اور مقابلہ کرنے کی مالی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ٹیکسٹائل ایکو نظام کی ریڑھ کی ہڈی، ایم ایس ایم ایز کو تسلیم کرنا، بجٹ 2026 ء کا مرکزیجزو ہے، جو ان کی سب سے اہم رکاوٹ-دینداری کو براہ راست حل کرتا ہے۔ 10000 کروڑ روپے کا ایس ایم ای گروتھ فنڈ، مضبوط ٹی آر ای ڈی ایس پلیٹ فارمز کے ذریعے انوائس فائنانسنگ میں توسیع اور تیزی سے سرکاری ادائیگی کے اوقات سرمائے کے تناؤ کو کم کرتے ہیں کیونکہ صرف تاخیر سے ادائیگیاں ہی سالانہ ایم ایس ایم ای کا تقریباً 15فیصدسرمائے کو روک لیتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ ڈھانچہ جاتی تبدیلی کا تعلق فیکٹریوں کے علاوہ ہتھ کرگھہ اور دستکاری سے بھی ہے، جو پورے دیہی اور نیم شہریبھارت میں تقریباً 65 لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ مہاتما گاندھی گرام سوراج پہل اور او ڈی او پی ویڑن کے ساتھ منسلک ایک مضبوط قومی ہتھ کرگھہ اور دستکاری پروگرام، اس شعبے کو گزر بسر میں مدد فراہم کرکے ہنر مندی، برانڈنگ اور پائیدار عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ روزگار کا فروغ جامع، مستقبل کے لیے تیار اور قومی سطح پر یکساں ہو۔
بجٹ 2026 ء ٹیکس ایکوپہل کے ذریعے ٹیکسٹائل کے شعبے میں ڈیزائن کے اصول کے طور پر پائیداری کو بھی شامل کرتا ہے، ویلیو چین میں ماحولیات کے تئیں ساز گار ذمہ دارانہ طریقوں کو مربوط کرتا ہے اور پائیداری کو مستقبل کی برآمدی مسابقت کے کلیدی محرک کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
بجٹ ریاضی سے لے کر قومی سمت تک-وکست بھارت کی راہ
پہلی بار ٹیکسٹائل کو میراث کے شعبے کے طور پر نہیں بلکہ روزگار اور صنعت کاری کے مستقبل کے انجن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ 2020 ء اور 2030 ء کے درمیان تقریباً 5 کروڑ روز گار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ، یہ شعبہ بھارت کی مزدوروں پر مرکوز ترقی کی حکمت عملی کا مرکزی جزو ہے۔
وکست بھارت، بجٹ ٹیکسٹائل اسٹارٹ اپس اور وسعت پانے والے کاروباری اداروں کے آئندہ سلسلے کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ روزگار، ہنر مندی اور پائیداری کو بنیادی حیثیت دے کر، بجٹ جامع ترقی کے لیے ایک واضح، ڈیٹا پر مبنی نقشہ راہ پیش کرتا ہے۔ یہ وکست بھارت 2047 اور اس سے آگے کی تشکیل کرتے ہوئے پیداواری ملازمتوں اور مسابقتی انٹرپرائز میں بھارت کو ایک مرتبہ پھر سونے کی چڑیا کے طور پر قائم کرنے کو یقینی بناتا ہے۔
( مصنف ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر ہیں: یہ اْن کے ذاتی خیالات ہیں )