تلنگانہ

نائب صدرکے انتخابات سے دور رہنے بی آرایس کا فیصلہ

بتایا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں جس کسی امیدوار کی تائید کی جائے، اس پر تنقیدیں ہی آنے کا اندیشہ ہے، اسی سوچ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس دوران، انڈیا اتحاد کے جسٹس سدرشن ریڈی نے جسٹس سدرشن ریڈی کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے۔

حیدرآباد: نائب صدر کے انتخابات کے موقع پر بی آر ایس پارٹی نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نوٹا کا آپشن نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی نے انتخابات سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت

بتایا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں جس کسی امیدوار کی تائید کی جائے، اس پر تنقیدیں ہی آنے کا اندیشہ ہے، اسی سوچ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس دوران، انڈیا اتحاد کے جسٹس سدرشن ریڈی نے جسٹس سدرشن ریڈی کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے۔

کسی بھی سیاسی جماعت سے ان کا تعلق نہیں رہا۔سیاسی طور پر غیر جانبدار شخصیت کی حیثیت رکھنے والے ریڈی کو انڈیا اتحاد نے امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 2022 کے نائب صدر انتخاب میں انڈیا اتحاد کی امیدوار مارگریٹ الوا کے حق میں بی آر ایس نے ووٹ دیا تھا لیکن موجودہ حالات میں ریاست میں کانگریس برسراقتدار ہے اور بی آر ایس اہم اپوزیشن جماعت کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان شدید تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں انڈیا اتحاد کے امیدوار کی تائید بی آر ایس کے لئے مناسب نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔فی الحال بی آر ایس کے چار ارکانِ پارلیمنٹ ہیں، جن میں راجیہ سبھا کے سدرشن ریڈی، وی روی چندر، دامودھر راؤ اور پاردھاسارتھی ریڈی شامل ہیں۔