ایل پی جی بحران پر بی آر ایس کا احتجاج، کے ٹی آر نے مرکز اور ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا
بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے اراکین اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے اراکین نے منگل کے روز ایل پی جی کی قلت کے خلاف گن پارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے گیس سلنڈروں کے پوسٹر دکھا کر مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا۔
حیدرآباد: بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے اراکین اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے اراکین نے منگل کے روز ایل پی جی کی قلت کے خلاف گن پارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے گیس سلنڈروں کے پوسٹر دکھا کر مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا۔
بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث ایل پی جی کی شدید قلت ہو گئی ہے، جس سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اگرچہ قلت سے انکار کر رہی ہے لیکن زمینی حقیقت نہایت تشویشناک ہے۔ کے ٹی آر نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے بھی اس معاملے میں اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم کا شعبہ مرکز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں 14 کلوگرام کے معیاری ایل پی جی سلنڈر کو کم کر کے 10 کلوگرام کیا جا سکتا ہے۔
مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں پر عوام پر بوجھ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ عوام "دو بیلوں کی لڑائی میں پھنسا ہوا بچھڑا” بن چکی ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے باعث ایل پی جی کی کمی اب ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت قلت سے انکار کر رہی ہے جب کہ دوسری طرف ریاستی حکومت سپلائی میں رکاوٹوں کا حوالہ دے رہی ہے جس سے عوام کو الجھن کا سامنا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری اقدامات کر کے ایل پی جی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے واضح بیان جاری کیا جائے تاکہ عوام کو مزید پریشانی نہ ہو۔