جنتر منتر احتجاج، سی جے پی قائدین سے کرائم برانچ کی پوچھ تاچھ
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے قائدین سورَو داس اور اشوتوش رانکا جمعرات کے روز جنتر منتر احتجاجی معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے راجوری گارڈن میں واقع دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے دفتر پہنچے۔
نئی دہلی۔ 5 نومبر (آئی اے این ایس) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے قائدین سورَو داس اور اشوتوش رانکا جمعرات کے روز جنتر منتر احتجاجی معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے راجوری گارڈن میں واقع دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے دفتر پہنچے۔
دہلی پولیس نے دونوں قائدین کو اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے جمعرات کو طلب کیا تھا اور انہیں دوپہر 12 بجے کرائم برانچ کے دفتر میں حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ پولیس نے اکتوبر میں بھی داس اور رانکا کو طلب کیا تھا، تاہم دونوں نے سمن پر حاضری نہیں دی تھی اور بعد ازاں کرائم برانچ کے سامنے پیش ہونے کے لیے مزید وقت طلب کیا تھا۔
سی جے پی قائدین کے خلاف احتجاج سے متعلق مقدمات اکتوبر میں کرائم برانچ کو منتقل کیے گئے تھے۔یہ مقدمات 13 اکتوبر کے واقعہ سے متعلق ہیں، جب داس، رانکا اور اجنکیا شندے سمیت 11 دیگر افراد نے جنتر منتر میں مبینہ طور پر غیر مجاز طور پر داخلہ حاصل کیا تھا۔ جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی حیثیت سے پہلے ہی ڈی نوٹیفائی کیا جاچکا ہے۔
دہلی پولیس نے تمام افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ شندے کو ضمانتی مچلکے پر رہا کردیا گیا، جبکہ داس اور رانکا ایک ہفتے تک عدالتی تحویل میں رہے۔سی جے پی کارکنان انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور اس دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے تھے۔
21 اکتوبر کو داس اور رانکا کو ایک ہفتہ عدالتی تحویل میں گزارنے کے بعد تہاڑ جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔ دونوں نے خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے روبرو تحریری یقین دہانی پیش کی تھی کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں گے اور قانون کے مطابق جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی حیثیت سے ڈی نوٹیفائی کیے جانے تک وہاں احتجاج کی اپیل نہیں کریں گے۔
خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ ریتو راج نے دونوں کارکنوں کی رہائی کا حکم اس وقت دیا تھا جب انہوں نے جنتر منتر میں غیر مجاز داخلے کے معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک فی کس 50 ہزار روپے کے شخصی مچلکے اور ضمانتی مچلکے جمع کرائے تھے۔ اپنی تحریری یقین دہانیوں میں دونوں کارکنوں نے امن و امان میں خلل نہ ڈالنے کا وعدہ کیا تھا اور ایس ای ایم عدالت سمیت عدلیہ اور اس کے تمام اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
ایس ای ایم عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 135(3) کے تحت امن و امان کی خلاف ورزی یا عوامی سکون میں خلل کو روکنے کے لیے ضروری فوری اقدامات، تحریری یقین دہانیوں کے ساتھ مچلکے داخل کرانے کے ذریعے مناسب طور پر یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔