ووٹر لسٹوں میں بڑی تبدیلی کی تیاری، الیکشن کمیشن کا نیا شیڈول جاری
الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SSR) کا شیڈول جاری کردیا۔ مربوط مسودہ 30 نومبر کو، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 21 جنوری 2027 کو شائع ہوگی۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس) الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے جمعرات کو انتخابی فہرستوں کی ایس ایس آر کے لیے تفصیلی شیڈول جاری کیا ہے۔ اس کا مقصد ان اہل ووٹروں کا اندراج کرنا ہے جو اب تک فہرستوں میں شامل نہیں ہوسکے، نیز پہلی مرتبہ ووٹ دینے کے اہل نوجوانوں کو بھی انتخابی فہرستوں میں شامل کرنا ہے۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق، انتخابی فہرستوں کا مربوط مسودہ 30 نومبر تک تیار کرلیا جائے گا، جبکہ حتمی فہرستوں کی اشاعت کے لیے 21 جنوری 2027 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح دعوے، اعتراضات اور ان کی یکسوئی کے لیے تقریباً دو ماہ کا وقت فراہم کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ یہ خصوصی نظرثانی ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کی جائے گی جہاں ایس ایس آر کا عمل حال ہی میں مکمل ہوا ہے یا اس وقت ایس ایس آر کا تیسرا مرحلہ جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مہم مرحلہ وار چلائی جائے گی اور ملک بھر میں بیک وقت اس کا انعقاد نہیں ہوگا۔
کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ آندھرا پردیش، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مہاراشٹر، میگھالیہ، ناگالینڈ، قومی دارالحکومت علاقہ دہلی، تریپورہ اور تلنگانہ میں ایس ایس آر کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔پہاڑی علاقوں، مثلاً ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ میں سرد موسم کے پیش نظر یہ عمل بعد کے مرحلے میں شروع کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، پولنگ اسٹیشنوں کی معقولیت اور ازسرنو ترتیب کا عمل 20 نومبر تک مکمل کرنا ہوگا، جبکہ مربوط مسودہ انتخابی فہرستیں 30 نومبر تک شائع کردی جائیں گی۔ دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے 30 نومبر سے 12 دسمبر تک کی مہلت دی گئی ہے۔ ان دعوؤں اور اعتراضات کی یکسوئی 16 جنوری 2027 تک مکمل کرنا ہوگی۔
حتمی انتخابی فہرستیں 21 جنوری 2027 کو شائع کی جائیں گی۔الیکشن کمیشن نے ایک تفصیلی پریس نوٹ میں بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز)، ضلع انتخابی افسران (ڈی آر اوز)، انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) اور دیگر انتخابی عہدیداروں کے لیے رہنما ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ حتمی فہرستوں کی اشاعت کے دن متعلقہ چیف الیکٹورل آفیسرز (سی ای اوز) پریس نوٹ جاری کریں گے۔کمیشن کے مطابق، ہر سی ای او اس مدت کے دوران پریس نوٹ جاری کرے گا اور ان تصاویر کو بھی شیئر کرے گا جن میں انتخابی رجسٹریشن افسر دعوؤں اور اعتراضات کی ہفتہ وار فہرست سیاسی جماعتوں کے حوالے کر رہے ہوں گے۔