قومی

نیشنل کانفرنس میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے

جموں و کشمیر کی حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے باغی ارکان اسمبلی نے جمعرات کو ایک بار پھر اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اجلاس جمعہ کو پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ہونے والی ملاقات سے قبل منعقد ہوگا۔

سرینگر (آئی اے این ایس) جموں و کشمیر کی حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے باغی ارکان اسمبلی نے جمعرات کو ایک بار پھر اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اجلاس جمعہ کو پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ہونے والی ملاقات سے قبل منعقد ہوگا۔

باغی ارکان اسمبلی کا دعویٰ ہے کہ وہ حکمراں نیشنل کانفرنس کے وفادار ہیں اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے متحد ہوئے ہیں۔ یہ ارکان اسمبلی باغی نیشنل کانفرنس رکن اسمبلی مبارک گل کی رہائش گاہ پر جمع ہو رہے ہیں۔ مبارک گل نے چہارشنبہ کو اپنی پریس کانفرنس ملتوی کردی تھی، تاہم انہوں نے اپنے موقف پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

چیف منسٹر عمر عبداللہ کی جانب سے کابینہ میں ردوبدل کے دوران بعض سینئرقائدین کو شامل نہ کیے جانے پر شروع ہونے والا اختلاف اب مبینہ طور پر ”80 سال سے زائد قدیم سیاسی جماعت کو بچانے کی وسیع تر اور اعلیٰ مقصد کی جدوجہد“ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

مبارک گل، عبدالمجیدلارمی، نذیر احمد گوریزی، پیرزادہ فاروق احمد شاہ اور دیگر ناراض ارکان اسمبلی نے نئی کابینہ کی تشکیل کے دوران پارٹی میں اپنی سینیارٹی اور اہمیت کو نظرانداز کیے جانے پر چیف منسٹر عمر عبداللہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔چوتھی مرتبہ اجلاس منعقد کرنے والے یہ باغی ارکان اب دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ نیشنل کانفرنس کو بچانے اور حکومت کو عوام کے مطالبات کے تئیں زیادہ جوابدہ بنانے کے لیے متحد ہیں۔

پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے سامنے پیش کیے جانے والے مطالبات میں بعض ایسے مطالبات بھی شامل ہیں جنہیں عمر عبداللہ کے لیے بظاہر تسلیم کرنا مشکل سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم توقع کی جارہی ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنے سیاسی قد، اثر و رسوخ اور پارٹی میں مستحکم مقام کا استعمال کرتے ہوئے ناراض ارکان کو کسی متفقہ موقف پر لانے کی کوشش کریں گے۔

باغی ارکان اسمبلی کا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چودھری کو کابینہ سے ہٹایا جائے یا کم از کم ان سے سڑکوں اور عمارتوں (آر اینڈ بی) کا قلمدان واپس لیا جائے۔ ان ارکان نے چودھری پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چیف منسٹر کے مشیر ناصر اسلم وانی کو عہدے سے ہٹانے اور نیشنل کانفرنس کے ایک اور رکن پارلیمنٹ شمی اوبرائے کے پارٹی معاملات پر اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ناصر اسلم وانی اور شمی اوبرائے دونوں عمر عبداللہ کے قریبی دوست ہیں اور عبداللہ خاندان سے ان کی وفاداری غیرمتزلزل سمجھی جاتی ہے۔عمر عبداللہ کے قریبی ذرائع کے مطابق، ”اس مطالبے کو تسلیم کرنا عمر عبداللہ کے لیے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کے مطالبے سے بھی زیادہ مشکل ہوگا۔“

باغی ارکان کا تیسرا مطالبہ ہے کہ ایسے وزراء کو کابینہ سے ہٹایا جائے جنہیں دو سال ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ ارکان اسمبلی سے مشاورت کے بعد نئے چہروں کو موقع دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق دیگر مطالبات بھی ہیں، تاہم پہلے تین مطالبات تسلیم کرنے کا مطلب پارٹی ہائی کمان کی جانب سے باغی ارکان کے سامنے جھکنے کے مترادف ہوگا۔اب تک ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے پارٹی میں پیدا ہونے والی اختلافی صورتحال پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔