گوداوری کھنی میں کیتھ لیب کا اندرون 75دن افتتاح: نائب وزیراعلیٰ تلنگانہ
انہوں نے کہا کہ سنگارینی کے تحت چلنے والے علاقائی اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تمام خالی ملازمتوں کو مارچ 2026 تک پر کر دیا جائے گا۔ 32 ڈاکٹروں کے تقرر کا نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری ہو چکا ہے جبکہ 176 پیرامیڈیکل اسٹاف کے تقرر کا عمل جاری ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیر توانائی ملو بھٹی وکرامارکا نے قانون ساز اسمبلی میں سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹیڈکے ملازمین اور ان کے خاندانوں کی بہبود کے لئے کئی اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ اسمبلی میں سنگارینی پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ورکرس کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سنگارینی کے تحت چلنے والے علاقائی اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تمام خالی ملازمتوں کو مارچ 2026 تک پر کر دیا جائے گا۔ 32 ڈاکٹروں کے تقرر کا نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری ہو چکا ہے جبکہ 176 پیرامیڈیکل اسٹاف کے تقرر کا عمل جاری ہے۔
راما گنڈم میں پی پی پی ماڈل کے تحت تعمیر ہونے والی کیتھ لیب کا کام مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ 75 دنوں کے اندر اس کا افتتاح کر دیا جائے گا جس سے گوداوری کھنی خطہ کے کارکنوں کو امراض قلب کے علاج کی جدید سہولیات میسر ہوں گی۔
ریٹائرڈ ملازمین کوسی پی آرایم ایس اسکیم کے تحت 8 لاکھ روپے تک کی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ خالی اراضیات پر ریٹائرڈ ملازمین کو ہاؤسنگ پلاٹ الاٹ کرنے کے بارے میں سنگارینی بورڈ جلد فیصلہ کرے گا۔
سنگارینی ورکرس کو ایک کروڑ روپے کا حادثاتی انشورنس کور فراہم کیا جا رہا ہے جس کا بوجھ نہ تو حکومت پر ہے اور نہ ہی کمپنی پر۔ نائب وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اس انشورنس اسکیم کا دائرہ کار اب محکمہ بجلی کی ڈسکام کے ملازمین تک بھی بڑھایا جائے گا۔
بھٹی وکرامارکا نے مرکزی حکومت کی جانب سے کوئلہ کی کانوں کے ہراج کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سنگارینی کی مارکٹ متاثر ہو رہی ہے تاہم، کانگریس حکومت نے سنگارینی کوہراج میں حصہ لینے کی ترغیب دی جس کے نتیجہ میں کمپنی نے کچھ نئی کانیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
اسمبلی اجلاس کے خاتمہ کے 10 دنوں کے اندر ایک اہم اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں وزراء، ارکان پارلیمنٹ، اور سنگارینی بیلٹ کے منتخب نمائندے شامل ہوں گے تاکہ کمپنی کے مستقبل اور کارکنوں کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکے۔