قومی

سرکاری احاطہ میں مسجد کی موجودگی سیکولر کردار کے خلاف: مرکز

مرکز نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ نئی دہلی کے کرشی بھون کامپلکس میں واقع 100 سال سے زیادہ قدیم مسجد کو سنٹرل وسٹا بازتعمیر منصوبے کے تحت ہٹایا جانا چاہیے۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) مرکز نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ نئی دہلی کے کرشی بھون کامپلکس میں واقع 100 سال سے زیادہ قدیم مسجد کو سنٹرل وسٹا بازتعمیر منصوبے کے تحت ہٹایا جانا چاہیے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر کے احاطے میں مستقل مذہبی ڈھانچے کی موجودگی سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے مطابقت نہیں رکھتی۔

مسجد کی انتظامی کمیٹی کی درخواست کے جواب میں داخل حلف نامے میں مرکز نے کہا کہ کرشی بھون اور سنٹرل سکریٹریٹ کا علاقہ سرکاری، انتظامی اور عوامی خدمات کے لیے مختص سیکولر احاطہ ہے۔ منصوبے کے تحت کامن سنٹرل سکریٹریٹ کی عمارتیں 4 اور 5 تعمیر کی جائیں گی، جس کے لیے موجودہ شاستری بھون اور کرشی بھون کی عمارتیں ہٹائی جائیں گی۔

حکومت کے مطابق مسجد سرکاری اراضی پر واقع ہے اور 1940 کے ایک معاہدے کے تحت کمیٹی کو صرف اس کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی، اس سے اسے زمین کی ملکیت یا کوئی مستقل قانونی حق حاصل نہیں ہوتا۔مرکز نے مسجد کو برقرار رکھنے کے مطالبے کے ساتھ متبادل مقام پر زمین فراہم کرنے کی درخواست کی بھی مخالفت کی۔

اس کا کہنا ہے کہ دو کلومیٹر کے دائرے میں ایک دوسری فعال مسجد موجود ہے، جہاں علاقے کے ملازمین اور رہائشی نماز ادا کرسکتے ہیں۔یہ معاملہ 2 نومبر کو سماعت کے دوران اس وقت زیر بحث آیا جب جسٹس انیش دیال نے سوال کیا کہ کیا کسی مخصوص مذہبی برادری کے لیے سرکاری احاطے میں نماز کی جگہ فراہم کرنے پر کوئی پابندی ہے؟

عدالت نے سرکاری وکیل کو یہ سوال ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے سامنے رکھنے کی ہدایت دی۔ معاملے کی اگلی سماعت 23 نومبر کو ہوگی۔مسجد کی انتظامی کمیٹی نے عدالت کو بتایا ہے کہ وہ سنٹرل وسٹا منصوبے کی مخالفت نہیں کررہی، بلکہ چاہتی ہے کہ نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں میں نماز کی سہولت برقرار رکھی جائے۔

کمیٹی کے وکیل اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے آئین کی دفعہ 25 کے تحت مذہبی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے قریبی مقام پر نماز کے لیے مناسب جگہ فراہم کرنے کی درخواست کی۔تاہم عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ دفعہ 25 کسی کو سرکاری زمین پر کسی مخصوص مقام ہی پر عبادت کرنے کا حق نہیں دیتی۔