حیدرآبادجرائم و حادثات

اولڈ سٹی میں چائنیز مانجھے کا قہر، گلا کٹنے سے طالب علم شدید زخمی

حیدرآباد کے اولڈ سٹی میں پابندی شدہ چائنیز مانجھا ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوا، جہاں شاہ علی بنڈہ پولیس اسٹیشن حدود میں واقع شمشیرگنج روڈ پر ایک انٹرمیڈیٹ طالب علم شدید زخمی ہو گیا۔

حیدرآباد کے اولڈ سٹی میں پابندی شدہ چائنیز مانجھا ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوا، جہاں شاہ علی بنڈہ پولیس اسٹیشن حدود میں واقع شمشیرگنج روڈ پر ایک انٹرمیڈیٹ طالب علم شدید زخمی ہو گیا۔ حادثہ اتوار کی شام تقریباً پانچ بجے پیش آیا جب جمیل نامی نوجوان دو پہیہ گاڑی پر سفر کر رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ہوا میں اڑتا ہوا چائنیز مانجھا اچانک جمیل کے گلے میں لپٹ گیا، جس کے باعث وہ توازن کھو بیٹھا اور سڑک پر گر پڑا۔ اس حادثے میں اس کا گلا بری طرح کٹ گیا جبکہ گردن، چہرے اور ہاتھوں پر بھی گہرے زخم آئے۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد نے بروقت مدد کرتے ہوئے زخمی طالب علم کو قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی جنوبی زون کے ڈی سی پی کرن کھیرے موقع پر پہنچے اور واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔ پولیس نے چائنیز مانجھے کے استعمال سے ہونے والے مسلسل حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ چائنیز مانجھے کی تیاری، فروخت اور استعمال قانوناً جرم ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعے پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

مقامی لوگوں اور طلبہ کے والدین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ چائنیز مانجھے کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید سختی لائی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پابندی کے باوجود چائنیز مانجھے کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔