حیدرآباد

حیدرآباد میں صبح کے وقت شدید حبس اور گرمی سے شہری پریشان

مارچ کا مہینہ عام طور پر خشک گرمی کے لئے جانا جاتا ہے، لیکن اس بار شہر میں صبح کے وقت نمی میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات حیدرآباد کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تک نمی کا تناسب 76 فیصد تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے عوام کو شدید پسینے اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں پیر کی صبح شہریوں کے لئے غیر معمولی اور بوجھل موسم لے کر آئی جہاں سورج نکلنے سے پہلے ہی ہوا میں نمی کے باعث بھاری پن محسوس کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
عالمی یومِ خواتین پر خصوصی رپورٹ ساجدہ خان: بھارت کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر اور خواتین کے لیے ایک مثال
غوث نگر کے مستحق طلبہ میں عید کے نئے کپڑوں کی تقسیم — ایس۔ ایم۔ رضی اللہ کا قابلِ تحسین اقدام


مارچ کا مہینہ عام طور پر خشک گرمی کے لئے جانا جاتا ہے، لیکن اس بار شہر میں صبح کے وقت نمی میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات حیدرآباد کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تک نمی کا تناسب 76 فیصد تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے عوام کو شدید پسینے اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔


پرائیویٹ موسمی اپلی کیشنس نے بھی صبح 5 سے 8 بجے کے درمیان نمی کا تناسب 74 فیصد ریکارڈ کیا جو کہ معمول سے کہیں زیادہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ موسم کا یہ عجیب و غریب انداز جس میں صبح کے وقت نمی 74 سے 76 فیصد اور دوپہر کے بعد کم ہو کر 31 سے 33 فیصد رہ جاتی ہے اتوار 15 مارچ تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح کے اوقات میں نسبتاً نمی زیادہ ہوتی ہے لیکن مارچ کے مہینے میں اس سطح تک پہنچنا شہریوں کے لئے معمول سے ہٹ کر ایک مشکل تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔