تلنگانہ

راشن چاول کی اسمگلنگ کے خلاف محکمہ سیول سپلائزکا کریک ڈاؤن

ویجلنس حکام نے اب ہر ماہ راشن کی دکانوں اور گوداموں کا دو بار معائنہ کرنے کے لئے ایک خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر جانچ کے دوران کوئی بھی ڈیلر بے قاعدگی میں ملوث پایا گیا تو اس کی ڈیلر شپ فوری طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ سیول سپلائز ڈپارٹمنٹ نے سرکاری راشن چاول کی غیر قانونی منتقلی اور بلیک مارکٹنگ کو روکنے اپنی نگرانی سخت کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں
راشن کارڈ کا پتا کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا: ہائی کورٹ
گورنمنٹ جونیئر کالج چنچگوڑہ میں داخلوں سے متعلق طلبہ و طالبات کی رہنمائی
نوافل اور ذکر الہٰی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج، ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسم اجرا سے ڈاکٹرس کا خطاب
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم

حکومت نے عوامی نظام تقسیم کے چاول کی اسمگلنگ میں ملوث دلالوں اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے راشن ڈیلروں کے خلاف نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ویجلنس حکام نے اب ہر ماہ راشن کی دکانوں اور گوداموں کا دو بار معائنہ کرنے کے لئے ایک خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر جانچ کے دوران کوئی بھی ڈیلر بے قاعدگی میں ملوث پایا گیا تو اس کی ڈیلر شپ فوری طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔


اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ویجلنس کی چھاپہ ماری میں تقریباً 1500 کوئنٹل راشن چاول ضبط کیا جا چکا ہے۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی ایسے افراد جن کے پاس غیر قانونی طور پر راشن کارڈ موجود ہیں وہ کوٹہ لینے کے بعد اسے ڈیلروں کو 15 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر دیتے ہیں جو بعد ازاں دیگر ریاستوں کو اسمگل کر دیا جاتا ہے۔

ایک تخمینہ کے مطابق، موجودہ فہرست میں تقریباً 8 سے 9 لاکھ کارڈ ہولڈرس ایسے ہیں جو راشن کے اہل نہیں ہیں۔