معاشی مجبوریوں کی شکایت لیکن سود لے کر تقاریب منعقد کرنے کی عادت تعلیم پر خرچ کرنے میں بخالت افسوس ناک
مسلمانوں کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانے کی تلقین _ مولانا احمد عبید الرحمن اطہر اور مولانا ڈاکٹر محمد عبدالمجید کا اشرف المدارس ہائی اسکول میں خطاب
مسلمانوں کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانے کی تلقین _ مولانا احمد عبید الرحمن اطہر اور مولانا ڈاکٹر محمد عبدالمجید کا اشرف المدارس ہائی اسکول میں خطاب
حیدرآباد : حضرت مولانا احمدعبید الرحمن اطہر ندوی امام و خطیب مسجد ٹین پوش ریڈ ہلز حیدرآباد نے کہا کہ سب خرچوں میں سب سے اہم خرچ تعلیم پر خرچ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی بے روزگاری، تنگدستی، اور معاشی مجبوری کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے اپ کو پریشان حال بھی بتاتے ہیں لیکن جب ان کے گھر میں کوئی چھوٹی موٹی بھی تقریب ہوتی ہے تو پیسے کا بے دریغ خرچہ کرتے ہیں جبکہ ان لوگوں کی توجہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے یا تعلیم پر پیسہ خرچ کرنے کی نہیں ہوتی
اشرف المدارس ہائی اسکول مرتضی نگراملی بن یاقوت پورہ حیدرآباد میں دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے ان خیالات کا اظہار کیا تقریب کے روح رواں اورسرپرست اعلی پروفیسر ایم ایم انور کی سرپرستی میں منعقدہ جلسے سے خطاب جاری رکھتے ہیں مولانا احمد عبید الرحمن اطہر ندوی نے مزید کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کی بستیاں سود میں لپٹی ہوئی ہیں سود لینے والے بھی مسلمان ہیں اور سود دینے والے بھی مسلمان ہیں انہوں نے کہا کہ کئی مسلمان تعلیم پر خرچ کرنا ہی نہیں چاہتے جبکہ سود تک لے کر غیر ضروری تقاریب منعقد کی جاتی ہیں جو بڑے ہی افسوس کی بات ہے
انہوں نے کہا کہ آج عصری مدارس ہوں یا دینی مدارس، ہر جگہ سرپرست چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی فیس کم سے کم لی جائے کم سے کم فیس ادا کرتے ہوئے بچوں کی اعلی سے اعلی تعلیم و تربیت کی توقع رکھنا کہاں تک درست ہو سکتا ہے مولانا نے کہا کہ 10 ہزار روپے میں ایک نیا فون آ سکتا ہے لیکن اگر کوئی آئی فون لینے کی خواہش کرے گا تو اسے 10 ہزار روپے میں نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ رقم دے کر آئی فون لینا پڑتا ہے جو چیز جتنی اہمیت رکھتی ہے اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے
اسی طرح سے ماہر سے ماہر اساتذہ کے تقرر کے لیے ان کی تنخواہیں اچھی دینی پڑتی ہے لیکن یہاں یہ حال ہے کہ لوگ کم فیس دے کر اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ کس طرح سے ممکن ہو سکتا ہے تعلیمی فیس کی ادائیگی کا معاملہ آتا ہے تو اس میں کسی نہ کسی طرح سے رعایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں سرپرستوں کو اپنے اس طرح کے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی
اسکول کے ہیڈ ماسٹر جناب سید عبدالباسط نے خیر مقدم کیا جناب سید مقصود علی اسکول لیڈر نے جلسے کاروائی چلائی مولانا ڈاکٹر محمد عبدالمجید ریٹائرڈ پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ اسلام انسانوں سے ہمدردی اور محبت کی تعلیم دیتا ہے انسان کو انسان بنانے اور ہمدردی کے جذبے کو ابھارنے کی تعلیم دیتا ہے انہوں نے کہا کہ رمضان کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ ہمیں غریبوں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہو پریشان لوگوں کی مدد کریں بیواؤں یتیموں اور ضرورت مندوں کی ضرورت کو پورا کرے مولانا نے نمازوں کی پابندی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ گھر کی بنسبت ومسجد میں نماز ادا کرنا 27 درجے اہمیت رکھتا ہے
اسی طرح سے کعبۃ اللہ میں اور مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کا ثواب اس سے کہیں زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ روزے کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ روزے کا اجر اللہ نے اپنے ذمے رکھا ہے مولانا نے تلاوت سخاوت اور عبادات کے ذریعے اللہ کو راضی کرنے کی تلقین کی انہوں نے یہ بھی کہا کہ سخاوت کے لیے پیسہ ہی ضروری نہیں ہم کسی کے ساتھ کچھ بھی بھلائی کرتے ہیں اس کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو یہ بھی ہماری سخاوت ہی کہلاتی ہے
مولانا نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی ہر دور میں اہمیت رہی ہے تعلیم حاصل کرنے میں کبھی بھی غفلت نہیں کرنا چاہیے مولانا نے اعتکاف کے فضائل میں بیان کیے اور کہا کہ اعتکاف کی بہت بڑی فضیلت ائی ہے لیکن اس سے زیادہ بھی فضیلت کسی پریشان حال بھائی کی مدد کرنا 10 سال کے اعتکاف کرنے کے برابر ہے مولانا عبدالمجید نے تلقین کی کہ ماہ رمضان کو قیمتی جانیں خوب خوب دعائیں کریں غریبوں کی مدد کریں اور اپنے آپ پ کو صحیح مسلمان بنائیں
چیف آپریٹنگ افیسر رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد پروفیسر محمد مسعود احمد،سابق جنرل سکریٹری ادبی انجمن اشرف المدارس ہائی اسکول جناب محمد حسام الدین ریاض کے علاوہ دیگر معززین اور اسکول کے قدیم طلبہ و طالبات نے شرکت کی اس موقع پر صدر مدرس جناب سید عبدالباسط نے کہا کہ یہ ایک 110 سالہ قدیم تعلیمی درسگاہ ہے اس درسگاہ سے اب تک لاکھوں طلبہ فیضیاب ہو چکے ہیں جو ہندوستان ہی نہیں ساری دنیا میں پھیلے ہوئے اور مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اس درسگاہ کی مزید ترقی کے لیے سابق طلبہ اور طالبات اور محبان اردو کا دامےدر مے سخنے ہر طرح سے تعاون وقت کا تقاضہ ہے اس موقع پر صدر معلمہ پرائمری سیکشن محترمہ آفرین شہوار، محترمہ عابدہ جبین صدر معلمہ انگریزی میڈیم اسا تذہ جناب محمد مجاہد شریف، مولانا فاروق، جناب سید عرفان اللہ حسینی، جناب عبدالغفور ،جناب محمد سبحان، جناب سعد عبدالرحمن ،جناب ضمیر، جناب ریاض احمد جونیئر اسسٹنٹ ,محترمہ عظمی بیگم , محترمہ سیما ,محترمہ عالیہ بیگم, محترمہ ناظرہ تبسم , محترمہ عرشیہ سلطانہ ,محترمہ زینت انساء, محترمہ امتہ الرحمن ،محترمہ امۃ العزیز اور دیگر موجود تھے افطار کے بعد نماز مغرب کا باجماعت اہتمام بھی کیا گیا