تلنگانہ میں نئے بس ڈپوز اور جدید بس اسٹیشنوں کی تعمیر۔ آر ٹی سی کا بڑا قدم
اس کے لئے ریاست کے 39 علاقوں میں مجموعی طور پر 209.44 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ان میں سے 8 مقامات پر ٹنڈرکا عمل مکمل ہو چکا ہے۔فی الحال ریاست میں 97 بس ڈپوکام کررہے ہیں۔ اب ایٹوروناگارم اور پداپلی میں نئے ڈپو قائم کئے جائیں گے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں دو مقامات پر نئے بس ڈپوز اور کئی علاقوں میں جدید بس اسٹیشنوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پرانے بس اسٹیشنوں کی ازسرنوتعمیر، ترقی اور توسیع کے کاموں پر آر ٹی سی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
اس کے لئے ریاست کے 39 علاقوں میں مجموعی طور پر 209.44 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ان میں سے 8 مقامات پر ٹنڈرکا عمل مکمل ہو چکا ہے۔فی الحال ریاست میں 97 بس ڈپوکام کررہے ہیں۔ اب ایٹوروناگارم اور پداپلی میں نئے ڈپو قائم کئے جائیں گے۔
منتھنی، حضور نگر، کوداڑ، مُلگ، کالیشورم اور مدھیرامیں جدید بس اسٹیشن تعمیر کئے جائیں گے۔ کالیشورم کے علاوہ سات مقامات پر تعمیراتی کام شروع ہو چکے ہیں۔ ایٹوروناگارم میں 5.91 کروڑ روپے کی لاگت سے 3.79 ایکڑ میں ڈپو کی تعمیر جاری ہے، سنگ بنیاد مکمل ہوچکا ہے۔مُلگ میں پرانا بس اسٹینڈ منہدم کرکے 4.8 کروڑ روپے کی لاگت سے کام شروع کیا گیا ہے۔
منتھنی میں 89لاکھ روپئے، جب کہ کالیشورم میں جدید بس اسٹیشن کے لیے 3.71کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔مدھیرا میں 9.40کروڑ روپے سے 2.2 ایکڑ یں جدید اسٹیشن تعمیر ہوگا۔حضور نگر میں 4.12ایکڑ میں 3.52 کروڑ روپئے سے تعمیر کئے جانے والے بس اسٹیشن کے لئے ورک آرڈر جاری ہوچکا ہے۔
پداپلی میں 11.04 کروڑ روپے سے 4.78 ایکڑ میں نیا ڈپو تعمیر کیا جائے گا۔ کوداڑ میں 16.89 کروڑ روپے سے 5.58 ایکڑ میں تعمیر خٗ جانے والے بس اسٹیشن کا ڈیزائن ابھی حتمی ہونا باقی ہے۔ریاست کے 31 علاقوں میں مجوزہ کاموں کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹس (ڈی پی آرس) تیار کی جا رہی ہیں۔ ان کی تکمیل کے بعد ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔
اشواراؤپیٹ میں سٹی لائٹ بس ڈپو، محبو ب نگر میں 15 کروڑ روپے سے جدید بس اسٹیشن، جبکہ ناگرکرنول، رنگاریڈی ضلع کے مڈگول، بھوپال پلی ضلع کے ریگنڈہ میں بھی نئے بس اسٹیشن تعمیر ہوں گے۔ بس سفر کے دوران کئی مرتبہ ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کے غیر مہذب رویہ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
آر ٹی سی حکام کو ان واقعات سے متعلق کئی شکایات ملی تھیں، جس پر انتظامیہ نے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بدتمیزی اور سخت لہجے سے باز رکھنے کے لیے لئے ہدایات دی گئی ہیں اور نئے نظم و ضبط پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے۔ساتھ ہی صحت کے مسائل سے دوچار ملازمین کی خدمات کے بارے میں بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔