حیدرآباد

تلنگانہ اور آندھرامیں کورونا کی واپسی، کوکٹ پلی میں ڈاکٹر وائرس سے متاثر، عوام میں تشویش کی لہر

فی الحال اس ڈاکٹر کو کورنٹائن میں رکھا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور علامات ظاہر ہونے پر فوری ٹیسٹ کروائیں۔

حیدرآباد: کورونا وائرس نے ایک بار پھر تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اپنی دستک دے دی ہے، جس کے بعد طبی حکام اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے کوکٹ پلی علاقے میں ایک ڈاکٹر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، مذکورہ ڈاکٹر گزشتہ دو دنوں سے بخار میں مبتلا تھا، جس کے بعد اس کا آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کروایا گیا، اور رپورٹ پازیٹیو آئی ہے۔

فی الحال اس ڈاکٹر کو کورنٹائن میں رکھا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور علامات ظاہر ہونے پر فوری ٹیسٹ کروائیں۔

دوسری جانب آندھرا پردیش میں بھی کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ پہلا کیس وشاکھاپٹنم کے مڈیلہ پالیم علاقے کی رہائشی 28 سالہ خاتون کا ہے، جسے بخار اور شدید کھانسی کی شکایت پر ایک نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ٹیسٹ کے بعد اس میں کووِڈ-19 کی تصدیق ہو گئی ہے۔

اسی طرح، نندیال ضلع کے چاگل مارری کی 75 سالہ خاتون کو طبیعت بگڑنے پر کڈپہ کے رِمز اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ شدید بخار اور دیگر علامات کی بنیاد پر راتوں رات کورونا ٹیسٹ کیا گیا، جس میں رپورٹ مثبت آئی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، عوام کو اب بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ماسک کا استعمال، سینیٹائزر، اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا پہلے کی طرح ہی ضروری ہے، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔