دہلی

میرا نام ساورکر نہیں، گاندھی ہے ، گاندھی کبھی معافی نہیں مانگتے : راہول

بی جے پی کے معافی مانگنےکے مطالبہ پر راہول گاندھی نے کہاکہ میرا نام ساورکر نہیں ہے، میں گاندھی ہوں، گاندھی کبھی معافی نہیں مانگتے۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہاکہ میں آپ کو کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جمہوریت پر حملہ ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ سے میری تقریر ہٹادی گئی۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کی رکنیت کی منسوخی کے بعد راہول گاندھی نے آج ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندرمودی پر سخت الزامات عائد کئے۔ راہول گاندھی نےکہاکہ اگر وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے ڈرادھمکاکر، جیل میں ڈال کر، مارپیٹ کر، مجھے نا اہل قراردیکر خاموش کراسکیں گے، تو یہ مودی کی غلط فہمی ہے۔

متعلقہ خبریں
گروپI امتحان رد کرنے کے مطالبہ پر عدالت میں نئی عرضی
پارلیمنٹ کامپلکس میں مجسموں کی منتقلی پر اعتراض، اسپیکر لوک سبھا کے نام ملیکارجن کھرگےکا مکتوب
عوام میں کے سی آر کی عزت ہنوز برقرار: کے ٹی آر
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)
راہل نے خط لکھ کر مرمو سے اگنی ویر اسکیم میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا

راہولگ گاندھی نے دارالحکومت میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں خصوصی طور پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پارلیمنٹ سے ان کی رکنیت سے نااہل قراردئے جانے یا انہیں پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع نہ دینے کی صرف ایک وجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) وزیر اعظم نریندر مودی اور کاروباری ‘اڈانی جی’ کے تعلقات پر اٹھنے والے سوال سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ میں پارلیمنٹ میں رہوں یا پارلیمنٹ سے باہر۔ میں اس مسئلے کو اٹھاتا رہوں گا اور اس سے پردہ اٹھاکر ہی رہوں گا۔

وزیر اعظم مودی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ مجھے اس سب کی پرواہ نہیں ہے۔ بی جے پی کے معافی مانگنےکے مطالبہ پر راہول گاندھی نے کہاکہ میرا نام ساورکر نہیں ہے، میں گاندھی ہوں، گاندھی کبھی معافی نہیں مانگتے۔

بی جے پی کے معافی مانگنےکے مطالبہ پر راہول گاندھی نے کہاکہ میرا نام ساورکر نہیں ہے، میں گاندھی ہوں، گاندھی کبھی معافی نہیں مانگتے۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہاکہ میں آپ کو کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جمہوریت پر حملہ ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ سے میری تقریر ہٹادی گئی۔

کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہاکہ میں آپ کو کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جمہوریت پر حملہ ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ سے میری تقریر ہٹادی گئی۔ میں نے قواعد کی وضاحت کی اور اسپیکر کو تفصیل سے خط بھی لکھا لیکن مجھے بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بی جے پی والوں نے مجھے ہندوستان مخالف کہا، مجھے بطور رکن وضاحت کرنے کا حق ہے لیکن اسپیکر نے مجھے بولنے کی اجازت نہیں دی۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ جنہوں نے میرا ساتھ دیا۔ مستقبل میں ملکر کام کریں گے۔

تاہم جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ کیا آپ کو اپنے بیان پر افسوس ہے؟ راہول گاندھی نے کہاکہ اب یہ قانونی معاملہ ہے۔ اس پر بات کرنا درست نہیں ہے۔ میں ہندوستان کیلئے لڑوں گا، جمہوریت کیلئے لڑوں گا۔

راہول گاندھی نے کہاکہ میں کبھی ملک کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ میری بھارت جوڑو یاترا کی کوئی بھی تقریر دیکھیں، میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ تمام سماج ایک ہے۔ نفرت، تشدد نہیں ہونا چاہئے۔

بی جے پی توجہ ہٹانے کا کام کرتی ہے، کبھی او بی سی کی بات کرے گی، کبھی بیرونی ممالک کی بات کرے گی۔ میں ان لوگوں سے نہیں ڈرتا، اگر وہ سمجھتے ہیں میری رکنیت منسوخ کرکے، ڈرادھماکر، جیل بھیج کر میرا منہ بند کرسکتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے والا۔

میں ہندوستان کی جمہوریت کیلئے لڑرہا ہوں اور لڑتا رہوں گا۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت پر حملہ ہورہا ہے۔ ہر روز ہمیں اس کی نئی مثالیں مل رہی ہیں، میں نے پارلیمنٹ میں ثبوت بھی دیئے۔

مجھے اپنی تپسیا کرنی ہے ، کرکے دکھاؤں گا۔ سچائی میرے خون میں ہے۔ آپ جو بھی کریں، میں سوال کرتا رہوں گا۔ چاہے آپ مجھے عمر بھر کیلئے جیل بھیج دیں یا تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی لگادیں۔

راہول گاندھی نے کہاکہ گوتم اڈانی کی زیرقیادت اڈانی انڈسٹریز گروپ اور مبینہ شیل کمپنیوں میں 20 ہزارکروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا مدا اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ رقم اڈانی کی نہیں ہوسکتی، کیونکہ ان کے کاروبار میں اس سطح کی نقد کمائی نہیں ہوتی۔

 انہوں نے اڈانی کو ’بدعنوان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیسہ جب ہندوستان میں ڈرون اور میزائل جیسی صنعتوں میں لگایا گیا ہے تو وزارت دفاع کو اس بات کی فکر کیوں نہیں ہے کہ اس میں کس کا پیسہ لگاہوا ہے۔

لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی عوامی نمائندگی ایکٹ کے التزامات کے تحت کی گئی ہے۔ اگر گاندھی کو اعلیٰ عدالت میں بری نہیں کیا جاتا یا ان کی سزا کے فیصلے پر روک نہیں لگائی گئی تو ان کی رکنیت بحال نہیں ہوگی اور وہ آٹھ سال تک الیکشن لڑنے کے لیے نااہل ہو جائیں گے۔

a3w
a3w