تلنگانہ

تلنگانہ کے نئے ڈی جی پی کی دوڑ میں سی وی آنند سب سے آگے

اس بات پر زور و شور سے بحث جاری ہے کہ موجودہ ڈی جی پی شیو دھر ریڈی کی میعاد رواں ماہ کے آخر میں ختم ہو رہی ہے جن کی جگہ سی وی آنند کا تقررمتوقع ہے۔ 1992 بیچ کے سی وی آنند ریاست کے پولیس عہدیداروں میں سب سے سینئر ہیں جبکہ موجودہ ڈی جی پی شیو دھر ریڈی کا تعلق 1994 بیچ سے ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے نئے پولیس سربراہ (ڈی جی پی) کے طور پر سینئر آئی پی ایس عہدیدارسی وی آنند کا نام تقریباً طے پانے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
ریونت ریڈی حکومت اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام: مسلم اقلیتی ریزرویشن پوراٹا سمیتی
عرشیہ انجم کی مشتبہ موت کے سلسلہ میں تحقیقات کیلئے ٹیم کی تعیناتی


اس بات پر زور و شور سے بحث جاری ہے کہ موجودہ ڈی جی پی شیو دھر ریڈی کی میعاد رواں ماہ کے آخر میں ختم ہو رہی ہے جن کی جگہ سی وی آنند کا تقررمتوقع ہے۔ 1992 بیچ کے سی وی آنند ریاست کے پولیس عہدیداروں میں سب سے سینئر ہیں جبکہ موجودہ ڈی جی پی شیو دھر ریڈی کا تعلق 1994 بیچ سے ہے۔


حکومت نے پہلے ہی سینئر آئی پی ایس عہدیداروں کی ایک فہرست مرکز کو روانہ کر دی ہے جس میں سی وی آنند کے علاوہ 1994 بیچ سے تعلق رکھنے والی سومیہ مشرا، ونائک پربھاکر آپٹے اور 1995 بیچ کی شکھا گوئل کے نام شامل ہیں تاہم سینیارٹی اور انتظامی صلاحیتوں کی بنیاد پر حکومت سی وی آنند کے نام پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔


دوسری جانب، ریاست کے چیف سکریٹری کے رام کرشنا راؤ کی معیاد بھی اس ماہ کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ اگرچہ وہ گزشتہ سال اگست میں ریٹائر ہونے والے تھے لیکن ریاستی حکومت کی درخواست پر مرکز نے ان کی خدمات میں سات ماہ کی توسیع دی تھی۔

اب ریونت ریڈی حکومت نے مردم شماری اور فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی جیسے اہم پروگراموں کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز کو دوبارہ مکتوب لکھا ہے کہ ان کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کی جائے۔ حکومت کے حلقوں کا ماننا ہے کہ گجرات، راجستھان اور آندھرا پردیش جیسی ریاستوں کی مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رام کرشنا راؤ کو کم از کم تین ماہ کی مزید توسیع مل سکتی ہے۔


اگر مرکز کی جانب سے توسیع نہیں دی جاتی ہے تو چیف سکریٹری کی دوڑ میں 1992 بیچ کے سینئر آئی اے ایس آفیسرجیش رنجن کا نام سرفہرست ہے۔ اس فہرست میں وکاس راج، سنجے جاجو اور 1994 بیچ کے سبیا ساچی گھوش بھی شامل ہیں۔


اگرچہ 1991 بیچ کے عہدیداراروند کمار سینیارٹی میں سب سے اوپر ہیں لیکن ان کے خلاف جاری مقدمات اور حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ان کے چیف سکریٹری بننے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر رام کرشنا راؤ کو توسیع نہیں ملتی تو جیش رنجن کا اگلا چیف سکریٹری بننا یقینی دکھائی دے رہا ہے۔