صحتقومی

اسکرین کی خطرناک لت! موبائل، لیپ ٹاپ اور کم نیند آنکھوں کی صحت کو پہنچا رہی ہے سنگین نقصان

اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل اسکرینیں آج ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ دن کا زیادہ وقت اسکرین دیکھنے، مناسب نیند نہ لینے، مسلسل قریب کی چیزوں پر نظر رکھنے، جسمانی سرگرمی کم کرنے، غذائیت سے بھرپور غذا نہ لینے اور باہر کم وقت گزارنے جیسی عادتوں سے آنکھوں پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔

نئی دہلی: اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل اسکرینیں آج ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ دن کا زیادہ وقت اسکرین دیکھنے، مناسب نیند نہ لینے، مسلسل قریب کی چیزوں پر نظر رکھنے، جسمانی سرگرمی کم کرنے، غذائیت سے بھرپور غذا نہ لینے اور باہر کم وقت گزارنے جیسی عادتوں سے آنکھوں پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ نظر کمزور ہونا فطری عمل ہے، لیکن موجودہ طرز زندگی کے باعث کم عمر افراد میں بھی آنکھوں کی تھکن، خشکی، جلن اور دیگر بصری مسائل زیادہ دیکھنے میں آرہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق صرف اسکرین دیکھنے سے آنکھیں اچانک بوڑھی نہیں ہوجاتیں، بلکہ طرز زندگی کی بعض عادتیں آنکھوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔

زیادہ دیر تک اسکرین دیکھتے ہوئے کام کرنے کے دوران ہم معمول سے کم پلکیں جھپکاتے ہیں۔ بعض اوقات آنکھیں مکمل طور پر بند نہ ہونے کی وجہ سے آنکھ کی سطح کو نم رکھنے والی حفاظتی تہہ متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں آنکھوں میں خشکی، جلن، خارش، پانی آنا یا ایسا محسوس ہونا کہ آنکھ میں کچھ پڑا ہوا ہے، جیسی شکایات ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح طویل عرصے تک قریب کی چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنے سے آنکھوں میں تھکن پیدا ہوتی ہے اور قریب سے دور کی چیز کو دیکھتے وقت فوکس تبدیل کرنے میں عارضی دشواری ہوسکتی ہے۔

بچوں اور نوجوانوں میں طویل وقت تک قریب سے پڑھنے یا اسکرین دیکھنے اور باہر مناسب وقت نہ گزارنے کا تعلق ہَرسٹ دِرْشْٹِی یعنی دور کی نظر کمزور ہونے کے مسئلے میں اضافے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاص طور پر بچوں کا باہر مناسب وقت گزارنا آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

آنکھوں کی صحت کے لیے مناسب نیند بھی انتہائی اہم ہے۔ کام، رات دیر تک موبائل فون کے استعمال یا زیادہ دیر تک تفریحی پروگرام دیکھنے کے لیے نیند کا وقت کم کرنے سے آنکھوں کو مکمل آرام اور بحالی کے لیے درکار وقت نہیں مل پاتا۔ مسلسل نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں آنکھوں میں خشکی، تھکن، روشنی برداشت کرنے میں دشواری اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی، بے قابو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور غیر صحت بخش غذا بھی بعض امراضِ چشم کے خطرے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سبزیاں، پھل اور مختلف اقسام کے خشک میوے اور غذائیت سے بھرپور اشیا کو غذا میں شامل کرنا، باقاعدگی سے ورزش کرنا اور خاص طور پر بچوں کو باہر کھیلنے اور وقت گزارنے کی عادت ڈالنا آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اسکرین کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں، بلکہ اسے درست طریقے سے استعمال کرنا زیادہ اہم ہے۔

زیادہ دیر تک اسکرین استعمال کرنے والے افراد کے لیے 20-20-20 اصول پر عمل کرنا مفید ہوسکتا ہے۔ یعنی ہر 20 منٹ بعد تقریباً 20 فٹ دور موجود کسی چیز کو کم از کم 20 سیکنڈ تک دیکھیں۔ اس کے علاوہ اسکرین کو آنکھوں سے مناسب فاصلے پر رکھنا، کمرے کی روشنی اور اسکرین کی برائٹنس کو مناسب سطح پر رکھنا اور بار بار پلکیں جھپکانا بھی آنکھوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔

تاہم اگر نظر مسلسل دھندلی رہنے لگے، آنکھ میں درد ہو، روشنی کی چمک محسوس ہو، آنکھوں کے سامنے تیرتے ہوئے دھبے نظر آئیں، شدید سرخی ہو یا نظر میں اچانک تبدیلی آئے تو اسے محض اسکرین کی وجہ سے ہونے والی تھکن سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات کی صورت میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں کی صحت صرف اسکرین کا استعمال کم کرنے سے نہیں بلکہ مناسب نیند، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، باہر گزارے جانے والے وقت اور باقاعدہ طبی نگہداشت سمیت مجموعی طرز زندگی پر منحصر ہے۔