1.36 لاکھ ووٹر نام حذف، ڈیجیٹل ریکارڈ غائب ہونے کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا
مدھیہ پردیش کے اندور ضلع میں سال 2022 کے دوران ووٹر لسٹ سے 1 لاکھ 36 ہزار 552 نام حذف کیے جانے کے بعد ان ناموں کو ہٹانے سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے اندور ضلع میں سال 2022 کے دوران ووٹر لسٹ سے 1 لاکھ 36 ہزار 552 نام حذف کیے جانے کے بعد ان ناموں کو ہٹانے سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں اندور کے سابق کونسلر دلیپ کوشل نے آر ٹی آئی کے تحت ووٹرز کے نام حذف کرنے کی کارروائی سے متعلق تفصیلات، ڈیجیٹل ریکارڈ، پرائیویٹ یا ٹھیکہ لینے والی کمپنیوں کے معاہدے، ورک آرڈر اور ڈیٹا بیک اَپ سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔ معاملہ اب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔
5 جنوری 2022 سے 15 اکتوبر 2022 کے درمیان اندور ضلع کی ووٹر لسٹ سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 36 ہزار 552 ووٹرز کے نام حذف کیے گئے تھے۔ دلیپ کوشل نے آر ٹی آئی کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان ناموں کو حذف کرنے کی کارروائی کس طریقہ کار کے تحت کی گئی اور اس عمل کا ڈیجیٹل ریکارڈ کہاں محفوظ ہے۔ تاہم آر ٹی آئی کے جواب میں کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی دفاتر نے بتایا کہ ان کے پاس گرُڑ ایپ اور ای آر او نیٹ سے متعلق مطلوبہ ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ نہیں ہے۔
دیپال پور انتخابی دفتر نے اپنے جواب میں کہا کہ ای آر او نیٹ یا بی ایل او کے گرُڑ ایپ سے متعلق ایسا کوئی ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرکے محفوظ نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح اندور-4 کے انتخابی دفتر نے بتایا کہ گرُڑ ایپ اور ای آر او نیٹ کے ذریعے ووٹرز کے نام حذف کرنے کی کارروائی انتخابی کمیشن کی ہدایات کے تحت معمول کے سرکاری کام کا حصہ تھی، تاہم اس کارروائی سے متعلق ویڈیو، ڈی وی ڈی یا کسی دوسرے ڈیجیٹل ریکارڈ کو محفوظ نہیں رکھا گیا۔
آر ٹی آئی سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اندور-4 اسمبلی حلقے میں 28 ہزار 391، اندور-5 میں 28 ہزار 91 اور راؤ اسمبلی حلقے میں 21 ہزار 346 ووٹرز کے نام حذف کیے گئے تھے۔ ان تین حلقوں میں حذف کیے گئے ناموں کی مجموعی تعداد 77 ہزار 828 بنتی ہے، جو اندور ضلع میں حذف کیے گئے کل 1 لاکھ 36 ہزار 552 ناموں کا تقریباً 57 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ اندور-2 میں 19 ہزار 983، اندور-1 میں 12 ہزار 102، اندور-3 میں 8 ہزار 107، سانور میں 8 ہزار 531 اور دیپال پور میں 2 ہزار 214 ووٹرز کے نام حذف کیے گئے۔
اس پورے معاملے میں صرف ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ناموں کی تفصیلات ہی نہیں بلکہ اس کارروائی میں شامل کمپنیوں کے معاہدے، ورک آرڈر، ڈیٹا بیک اَپ اور سرکاری محکموں کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کی معلومات بھی طلب کی گئی تھیں۔ آر ٹی آئی درخواست مختلف انتخابی دفاتر تک پہنچنے کے بعد کئی مقامات سے ایسے جوابات موصول ہوئے کہ مطلوبہ معلومات ان کے دفتر سے متعلق نہیں ہے یا متعلقہ ڈیجیٹل ریکارڈ ان کے پاس محفوظ نہیں ہے۔
دلیپ کوشل کی جانب سے معلومات حاصل کرنے کی یہ قانونی کوشش اب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ تک پہنچ چکی ہے۔ جسٹس سندیپ این بھٹ نے 17 ستمبر 2026 کو دیے گئے اپنے حکم میں ریاستی انفارمیشن کمیشن کو ہدایت دی کہ دلیپ کوشل کی زیر التوا دوسری اپیل پر دستیاب دستاویزات اور متعلقہ قانون کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے حکم کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے دن سے 45 دن کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ فیصلے کی اطلاع درخواست گزار کو بھی دی جائے۔ یہ اپیل ریاستی انفارمیشن کمیشن میں 30 جنوری 2026 سے زیر التوا تھی۔
اہم بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں اس معاملے کے اصل میرٹ یا ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کی کارروائی پر کوئی حتمی رائے ظاہر نہیں کی ہے۔ عدالت کی ہدایت صرف آر ٹی آئی سے متعلق زیر التوا اپیل پر مقررہ مدت میں قانون کے مطابق فیصلہ کرنے تک محدود ہے۔
دلیپ کوشل نے 31 جولائی 2025 کو اس معاملے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے علاوہ مدھیہ پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر کو بھی شکایت بھیجی تھی۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے عمل میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل نظام کا ریکارڈ کس طرح محفوظ رکھا جاتا ہے اور کیا دیگر اسمبلی حلقوں میں بھی ریکارڈ رکھنے کا یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ سال 2022 میں اندور کی ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے سے متعلق ہے اور موجودہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی ایس آئی آر کی براہ راست کارروائی کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم آر ٹی آئی کے ذریعے مانگے گئے ریکارڈ اور سرکاری دفاتر کی جانب سے دیے گئے جوابات نے ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں سے متعلق دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی دستیابی کے حوالے سے سوالات ضرور سامنے لائے ہیں۔