تلنگانہ

حائیڈرا کے تحت محفوظ کی گئی 2,665 ایکڑ سرکاری اراضی کو فروخت کرنے کا فیصلہ، حیرت انگیز انکشاف

تلنگانہ میں HYDRAA کے تحت باڑ لگا کر محفوظ کی گئی سرکاری اراضی کو فروخت کرنے کے حکومت کے مبینہ فیصلے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ریاستی حکومت نے تقریباً 2,665 ایکڑ سرکاری اراضی کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں HYDRAA کے تحت باڑ لگا کر محفوظ کی گئی سرکاری اراضی کو فروخت کرنے کے حکومت کے مبینہ فیصلے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ریاستی حکومت نے تقریباً 2,665 ایکڑ سرکاری اراضی کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران HYDRAA کے ذریعے کئی مقامات پر سرکاری اراضی کی نشاندہی کرکے وہاں باڑ لگائی گئی۔ حکومت کی جانب سے اس کارروائی کو سرکاری زمینوں کو قبضوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔

تاہم اب ان ہی اراضی کو فروخت کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے ناقدین نے HYDRAA کی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ کئی ایسی سرکاری اراضی پر کسی قسم کا قبضہ نہیں تھا، اس کے باوجود بڑے پیمانے پر باڑ لگانے پر سرکاری رقم خرچ کی گئی اور اس کارروائی کو بڑے پیمانے پر تشہیر دی گئی۔

رپورٹس کے مطابق حکومت نے سرکاری اراضی کو آمدنی حاصل کرنے کے مقصد سے حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) اور تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن (TGIIC) جیسی ایجنسیوں کے ذریعے نیلام کرنے کی تجویز پر غور کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق HYDRAA کے ذریعے محفوظ کی گئی تقریباً 2,665 ایکڑ اراضی کی مالیت ₹60,000 کروڑ سے ₹90,000 کروڑ کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ یہ اراضی حیدرآباد کے علاوہ میڈچل-ملکاجگیری اور رنگاریڈی اضلاع میں مختلف سرکاری محکموں اور اداروں سے متعلق بتائی جاتی ہے۔

حکومت کی جانب سے اراضی کی نیلامی کا مقصد ریاست کے لیے اضافی آمدنی حاصل کرنا اور وسائل کو متحرک کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو یہی اراضی فروخت کرنی تھی تو پہلے HYDRAA کے ذریعے اس کی باڑ بندی اور تحفظ پر اتنا خرچ کیوں کیا گیا۔

دوسری جانب HYDRAA کا موقف رہا ہے کہ سرکاری اراضی کو باڑ لگا کر محفوظ کرنے کا مقصد مستقبل میں ہونے والے تجاوزات اور قبضوں کو روکنا ہے۔ ادارے نے مختلف مقامات پر سرکاری اراضی کو قبضوں سے واگزار کرانے اور اسے محفوظ بنانے کی کارروائیاں بھی کی ہیں۔

اب 2,665 ایکڑ اراضی کی مجوزہ فروخت نے HYDRAA کی کارروائیوں، سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور حکومت کی جانب سے سرکاری زمینوں کو آمدنی کے لیے استعمال کرنے کے معاملے پر سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔