چارمینار سے پلستر کا حصہ گر گیا، تاریخی عمارت کی دیکھ بھال پر سوالات اٹھنے لگے
حیدرآباد کی تاریخی شناخت اور اہم سیاحتی مقام چارمینار میں جاری مرمتی کام کے دوران پہلی منزل سے پلستر کا ایک حصہ گرنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد تاریخی عمارت کی دیکھ بھال اور سیاحوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد کی تاریخی شناخت اور اہم سیاحتی مقام چارمینار میں جاری مرمتی کام کے دوران پہلی منزل سے پلستر کا ایک حصہ گرنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد تاریخی عمارت کی دیکھ بھال اور سیاحوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق رات کے وقت چارمینار کی پہلی منزل سے اچانک پلستر کے ٹکڑے گرنے لگے۔ خوش قسمتی سے اس وقت رات ہونے کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد کم تھی اور کسی بڑے حادثے کی اطلاع نہیں ہے۔
واقعہ کے بعد مقامی افراد اور سیاحوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں نے آثار قدیمہ کے محکمہ کی جانب سے تاریخی عمارت کی دیکھ بھال کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چارمینار ملک اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا اہم مرکز ہے، اس لیے اس کی باقاعدہ نگرانی اور مرمت ضروری ہے۔
مقامی افراد کے مطابق ماضی میں بھی چارمینار سے پلستر یا عمارت کے بعض حصے گرنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ ایک مرتبہ پلستر مکہ مسجد کی سمت گرا تھا، جبکہ ایک اور موقع پر بھگیا لکشمی مندر کی جانب پلستر گرنے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
تازہ واقعہ کے بعد مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ چارمینار کی عمارت کا مکمل معائنہ کیا جائے اور مرمتی کام کے دوران سیاحوں اور اطراف میں موجود افراد کی حفاظت کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔
چارمینار حیدرآباد کی عالمی سطح پر معروف تاریخی علامت ہے اور یہاں روزانہ بڑی تعداد میں سیاح پہنچتے ہیں۔ ایسے میں تاریخی عمارت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عوام کی حفاظت کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔
پلستر گرنے کی اصل وجہ اور عمارت میں جاری مرمتی کام سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔