یادادری پاور پلانٹ کے لیے کوئلے کی فراہمی، 40 ہزار کروڑ کے اضافی بوجھ کا خدشہ
تلنگانہ کے چیف منسٹر اے. ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ یادادری تھرمل پاور پلانٹ میں دسہرہ سے قبل مکمل صلاحیت کے ساتھ بجلی کی پیداوار شروع کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ پلانٹ کے لیے درکار G9 گریڈ کوئلے کی دستیابی کے حوالے سے تشویش کے درمیان حکومت نے متبادل ذرائع سے کوئلہ حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے. ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ یادادری تھرمل پاور پلانٹ میں دسہرہ سے قبل مکمل صلاحیت کے ساتھ بجلی کی پیداوار شروع کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ پلانٹ کے لیے درکار G9 گریڈ کوئلے کی دستیابی کے حوالے سے تشویش کے درمیان حکومت نے متبادل ذرائع سے کوئلہ حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
حکام کے مطابق سنگارینی کالریز کے پاس فی الحال G9 گریڈ کوئلہ پیدا کرنے والے بلاکس موجود نہیں ہیں۔ بیرونی ذرائع سے یادادری پاور پلانٹ تک کوئلہ پہنچانے کی صورت میں تلنگانہ پر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔
چیف منسٹر نے اس معاملے پر عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے کوئلے کی دستیابی اور پاور پلانٹ کی مکمل صلاحیت سے پیداوار کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیا۔
ریونت ریڈی نے ڈپٹی چیف منسٹر و توانائی کے وزیر ملو بھٹی وکرمارکا کو ہدایت دی کہ وہ مرکزی وزیر کوئلہ جی. کشن ریڈی سے G9 گریڈ کوئلے کی دستیابی کے معاملے پر فوری بات چیت کریں۔
ریاستی حکومت مہانادی کول فیلڈز اور کول انڈیا سے بھی کوئلے کی فراہمی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ریاست کی بجلی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔
حکومت کی جانب سے یادادری پاور پلانٹ میں مکمل صلاحیت کے ساتھ بجلی کی پیداوار بحال کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ زرعی شعبہ اور لفٹ اریگیشن منصوبوں کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور تھرمل پاور پلانٹس کو زیادہ سے زیادہ صلاحیت پر چلانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
کوئلے کی دستیابی، بیرونی ذرائع سے فراہمی اور اس سے وابستہ اضافی اخراجات کے معاملے پر حکومت کی جانب سے مزید جائزہ لیا جارہا ہے۔