تلنگانہ

مسلم معاشرے میں بگاڑ کے اسباب کا سنجیدہ جائزہ ضروری: محمد سلیم

سابق رکن قانون ساز کونسل اور سابق صدرنشین وقف بورڈ و حج کمیٹی محمد سلیم نے مسلم معاشرے میں قتل اور دیگر سنگین جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم کے تدارک کے لیے اجتماعی سطح پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

حیدرآباد،: سابق رکن قانون ساز کونسل اور سابق صدرنشین وقف بورڈ و حج کمیٹی محمد سلیم نے مسلم معاشرے میں قتل اور دیگر سنگین جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم کے تدارک کے لیے اجتماعی سطح پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایک بیان میں محمد سلیم نے کہا کہ موجودہ دور میں جرائم اور بد اخلاقی کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بگاڑ کے پس پردہ محرکات اور وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے ٹھوس حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے۔

انہوں نے ائمہ اور خطبا سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کے خطبات میں چند ہفتوں تک قتل کی حرمت اور انسانی جان کی اہمیت کو مسلسل موضوع بنائیں اور سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے ملت اسلامیہ کو عملی لائحہ عمل سے آگاہ کریں۔

محمد سلیم نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناحق کسی انسان کا قتل انتہائی سنگین گناہ ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کی سورۃ النساء کی آیت 93 کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ انسانی جان کی حرمت اور اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کو عام کریں۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں جرائم کے خاتمے کے لیے صرف انفرادی طور پر جرائم سے بچنے کی کوشش کافی نہیں بلکہ ان افراد کی اصلاح اور مدد بھی ضروری ہے جو مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے نوجوانوں کو بروقت اس راستے سے نکالنے کے لیے معاشرے کو اجتماعی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

محمد سلیم نے بچوں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض والدین بچوں کی تربیت اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دیتے ہیں، جس سے بعض بچوں میں ضد، خودسری اور جارحانہ رویہ پیدا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات چیت کریں اور ان کے خیالات اور مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر بچوں میں غصہ یا جارحیت کے آثار نظر آئیں تو انہیں نرمی اور حکمت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

محمد سلیم نے مسلم نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے مسئلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نشہ بعض نوجوانوں کو دیگر جرائم کی جانب لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خاندان، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے محلہ کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تاکہ مقامی مسائل سے بروقت آگاہی حاصل کی جاسکے اور ایسے نوجوانوں کی اصلاح کے لیے اقدامات کیے جاسکیں جو منفی سرگرمیوں کی طرف بڑھ رہے ہوں۔

محمد سلیم نے ائمہ اور خطبا سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے محلہ کے افراد سے مسلسل رابطے میں رہیں، ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کریں اور ضرورت پڑنے پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی رہنمائی کریں۔

انہوں نے محکمہ پولیس سے بھی نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم کرنے اور پولیس اسٹیشن کی سطح پر شرپسند سرگرمیوں میں ملوث نوجوانوں پر نظر رکھنے کی اپیل کی، تاکہ جرائم کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات کیے جاسکیں۔