دہلی

دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ کے سابق کارگزار وائس چانسلر اقبال حسین کی معطلی کو منسوخ کر دیا

دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے سابق کارگزاروائس چانسلر پروفیسر اقبال حسین کی معطلی کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی نہ تو ان کے حق میں تھی اور نہ ہی ادارے کے حق میں۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے سابق کارگزاروائس چانسلر پروفیسر اقبال حسین کی معطلی کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی نہ تو ان کے حق میں تھی اور نہ ہی ادارے کے حق میں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ ملیہ اسلامیہ سی ایس کوچنگ اکیڈیمی میں او بی سی داخلہ کا مسئلہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 3 نئے شعبے متعارف
یٰسین ملک سزائے موت کیس، سماعت سے ہائیکورٹ جج نے علیحدگی اختیار کرلی
پرووائس چانسلر تقرر کیس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کودہلی ہائیکورٹ کی نوٹس
تعلیم کیلئے مخصوص اسکول کے انتخاب کا حق نہیں: دہلی ہائی کورٹ


چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پروفیسر حسین کی جانب سے ان کی معطلی کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ سماعت کے دوران، جے ایم آئی یونیورسٹی نے عدالت کو مطلع کیا کہ اس نے پہلے ہی 6 ستمبر 2024 کی معطلی کے حکم کو واپس لے لیا ہے اور اس کے لیے 20 جنوری 2026 کو ایک نیا حکم جاری کیا گیا تھا۔


اس کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے پروفیسر حسین کو ان کی اکادمی اور تدریسی ذمہ داریاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی۔ نیز عدالت نے یہ ہدایت دی کہ جب تک تادیبی کارروائی مکمل نہیں ہوجاتی، اس وقت تک اسٹیٹ آفیسر کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ محکمہ جاتی انکوائری ڈیڑھ سال سے زیادہ وقت سے زیر التوا تھی اور تسلیم کیا کہ اتنی طویل تحقیقات سے غیر ضروری پریشانی ہوتی ہے۔ اس لیے بنچ نے یونیورسٹی کو چھ ہفتوں میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔


یہ معاملہ جے ایم آئی کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک فیصلے سے متعلق ہے، جس میں سابق ڈین فیکلٹی آف لاء پروفیسر حسین سے یونیورسٹی کے زمین خریدنے کے پہلے حق کے بارے میں رائے دینے کے لیے کہا گیا تھا۔


پروفیسر حسین نے زمین کی خریداری کے خلاف مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو اپنی موجودہ زمین کو موثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے نیز میڈیکل کالج اور دیگر تعلیمی ترقی جیسے اہم منصوبوں کے لیے مالی وسائل بچانا چاہیے۔


ان کے موقف کی ایگزیکٹو کونسل کے ارکان کی اکثریت نے تائید کی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی زمین نہیں خریدے گی۔ کونسل کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پروفیسر حسین نے زمین کے مالک کو باضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کیا اور کہا کہ عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔


پروفیسر حسین کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ ادویت گھوش نے ایڈوکیٹ انکور چبّر کے ساتھ مل کر کہا کہ ایگزیکٹو کونسل کے فیصلے کے مطابق کام کرنے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے مبینہ طور پر پروفیسر کو بدنیتی کی بنا پر معطل کر دیا۔


وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پروفیسر حسین پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ اپیل کو نمٹاتے ہوئے ہائی کورٹ نے تادیبی کارروائی کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور یونیورسٹی کے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر اس کے بارے میں آگاہ کریں۔