حیدرآباد

بجلی کے مسئلہ پر کانگریس ارکان اسمبلی کا پلے کارڈس کے ساتھ مظاہرہ

کانگریس کے ارکان اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس لے کر اسمبلی سے باہر نکلے اور نعرے بازی کرنے لگے۔بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ 24گھنٹے معیاری بجلی کی فراہمی کا حکومت نے جو وعدہ کیاتھا وہ وعدہ پوراکرنے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس کے ارکان اسمبلی نے الزام لگایا کہ ریاست کے تمام زمروں کو 24گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے چندرشیکھرراو حکومت نے دھوکہ دیا ہے۔اس مسئلہ پر اسمبلی کے باہر میڈیا پوائنٹ پر کانگریس کے ارکان اسمبلی نے پلے کارڈس کے ساتھ مظاہرہ کیا۔

متعلقہ خبریں
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ارکان اسمبلی ملوبھٹی وکرامارکا، سیتکا اور جگاریڈی نے الزام لگایا کہ ریاست بھر میں بجلی کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔

یہ کانگریس کے ارکان اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس لے کر اسمبلی سے باہر نکلے اور نعرے بازی کرنے لگے۔بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ 24گھنٹے معیاری بجلی کی فراہمی کا حکومت نے جو وعدہ کیاتھا وہ وعدہ پوراکرنے میں حکومت ناکام ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست میں بجلی کے بحران کے مسئلہ پر مباحث کے مطالبہ کو بھی ریاستی حکومت نے نظرانداز کردیا۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی مناسب سپلائی نہ ہونے کے نتیجہ میں کسانوں کومشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

سی ایل پی بھٹی وکرمارکا نے کسانوں کے مسائل پر کانگریس کی طرف سے پیش کردہ تحریک التوا کو اسپیکر کی جانب سے مسترد کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل پر بات کرنے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں بجلی کی کٹوتی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے کے باوجود اسپیکر نے ان کی طرف توجہ نہیں دی جس پر وہ احتجاجاً ایوان سے باہر آگئے۔