حیدرآبادجرائم و حادثات

مہدی پٹنم میں سونے کے زیورات کو لے کر تنازع، باپ نے بیٹی کے ساس اور سسر پر چاقو سے حملہ کردیا

گزشتہ برس محسن نواز کی بیٹی کی شادی محمد شریف کے بیٹے سے ہوئی تھی، جس کے بعد داماد کینیڈا منتقل ہو گیا۔ حال ہی میں بتایا گیا کہ خاندان میں ایک تقریب کے سلسلے میں سونے کے زیورات لانے کی بات پر اختلافات پیدا ہوئے۔

حیدرآباد کے مہدی پٹنم علاقے میں سونے کے معاملے پر خاندانی تنازع اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گیا جب ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنے رشتہ داروں پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ فرسٹ لینسر علاقے میں، مہدی پٹنم پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا، جس کے بعد مقامی رہائشیوں میں خوف اور بے چینی پھیل گئی۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
اتحاد ملت ریاستی کانفرنس کا کل انعقاد، زعفرانی نظام تعلیم کے خلاف جدوجہد کرنے مشتاق ملک کا اعلان
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

پولیس کے مطابق، یہ تنازع شادی کے بعد قائم ہونے والے خاندانی رشتے سے جڑا ہے۔ گزشتہ برس محسن نواز کی بیٹی کی شادی محمد شریف کے بیٹے سے ہوئی تھی، جس کے بعد داماد کینیڈا منتقل ہو گیا۔ حال ہی میں بتایا گیا کہ خاندان میں ایک تقریب کے سلسلے میں سونے کے زیورات لانے کی بات پر اختلافات پیدا ہوئے۔ اسی سلسلے میں جب محسن نواز نے سسرال والوں سے بات چیت کی تو دونوں خاندانوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بحث شدت اختیار کرنے پر محسن نواز نے محمد شریف اور ان کی اہلیہ پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دونوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ واقعے کے فوراً بعد زخمی جوڑے کو علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اچانک پیش آئے اس تشدد نے اہلِ خانہ اور پڑوسیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مہدی پٹنم پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس اہلکار خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔ حکام کے مطابق، تحقیقات کی روشنی میں آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات، خاص طور پر سونے اور مالی معاملات پر اختلافات، اگر تحمل سے حل نہ کیے جائیں تو تشدد میں بدل سکتے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایسے معاملات کو پرامن طریقے سے حل کریں اور قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔