شمالی بھارت

راہول گاندھی کو شہزادہ کہنے پر پرینکا گاندھی کا پلٹ وار

کانگریس قائد پرینکا گاندھی وڈرا نے ہفتہ کے دن وزیراعظم نریندر مودی کو ’شہنشاہ‘ قراردیا جو محل میں رہتا ہے لیکن عوام سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔

لکھانی (گجرات): کانگریس قائد پرینکا گاندھی وڈرا نے ہفتہ کے دن وزیراعظم نریندر مودی کو ’شہنشاہ‘ قراردیا جو محل میں رہتا ہے لیکن عوام سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں
دہلی میں 2019 کی تاریخ دہرانے کا ماحول: دھامی
میں نے حکمت عملی کے تحت لوک سبھا الیکشن نہیں لڑا: پرینکا کا انٹرویو (ویڈیو)
آخر پاکستان پر بات کیوں ہورہی ہے جب انتخابات ہندوستان میں ہورہے ہیں:پرینکا
ریزرویشن کی بالائی حد، مودی اپنا موقف واضح کریں: کانگریس
وزیراعظم کے بے بنیاد دعویٰ پر تنقید

مودی نے قبل ازیں راہول گاندھی کو ’شہزادہ‘ کہا تھا جس کے جواب میں پرینکا گاندھی نے یہ بات کہی۔ گجرات کے حلقہ لوک سبھا بناس کنٹھا کے لکھانی میں جلسہ عام سے خطاب میں پرینکا گاندھی وڈرا نے مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ گجرات کے عوام کو اقتدار کے لئے استعمال کرتے ہیں اور بعد میں انہیں بھلادیتے ہیں۔

کانگریس قائد نے کہا کہ وہ میرے بھائی کو شہزادہ کہتے ہیں۔ میں ان سے کہنا چاہوں گی کہ اس شہزادہ نے عوام کے مسائل سننے کے لئے کنیاکماری تا کشمیر 4 ہزار کیلو میٹر کی پد یاترا کی۔

اس نے اپنے ہم وطنوں‘ کسانوں اور مزدوروں سے مل کر ان سے پوچھا کہ ہم ان کے مسائل کیسے حل کرسکتے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ دوسری طرف آپ کا شہنشاہ نریندر مودی جی ہے جو محل میں رہتا ہے۔

کیا کبھی آپ نے انہیں ٹی وی پر دیکھا ہے؟۔ صاف ستھرے لباس پر کوئی گردوغبار نہیں ہوتا۔ کیا وہ کبھی آپ کی کڑی محنت‘ آپ کی کاشتکاری سمجھ سکتے ہیں؟ وہ آپ کے مسائل کیسے سمجھیں گے کہ آپ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہیں۔

بی جے پی کے کئی قائدین آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت پھر برسراقتدار آنے پر دستور بدل دے گی۔ دستور بدلنے کا مطلب وہ عوام کے تمام حقوق کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ آج کی سیاست سمجھیں تو مودی نے گزشتہ 10 سال میں عوام کے حقوق کو کمزور کیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے مودی کے گجرات سے لوک سبھا الیکشن نہ لڑنے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست کے عوام کو استعمال کرکے بھلادیتے ہیں۔ وہ وارانسی (یوپی) سے الیکشن لڑرہے ہیں کیونکہ وہ گجرات کے عوام سے کٹ چکے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہاکہ وزیراعظم جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ پہلے جھوٹ کی ایک حد ہوتی تھی۔

انہوں نے بے روزگاری کے مسئلہ پر بھی مودی کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ مرکزی حکومت میں 30لاکھ جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ بے روزگاری کی شرح گزشتہ 45 سال میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔ بناس کنٹھا میں تیسرے مرحلہ کے تحت 7 مئی کو پولنگ ہوگی۔