ایک شکایت نے پورے خاندان کو قانونی الجھن میں ڈال دیا!
حسینی علم ویمن پولیس اسٹیشن میں درج مقدمہ، چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود چارج شیٹ داخل نہیں ہوئی۔ سینئر سٹیزن والدین اور الگ رہنے والی شادی شدہ بیٹی کے خلاف کارروائی پر قانونی مشورہ، مفاہمت اور مصالحت کے امکانات پر بھی روشنی۔
سوال : میرا نام وقارالدین ہے اور میں حیدرآباد کا ساکن ہوں ۔ میری بہو نے حسینی علم وومن پولیس اسٹیشن میں جہیز ہراسانی کا کیس درج کروایا ہے۔ شادی 2019 میں ہوئی تھی، ایک لڑکی ہے جو ماں کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کیس میں ابھی تک چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے حالانکہ کیس بک ہو کر چار مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہوچکاہے۔
اس کیس میں میرا نام، میری اہلیہ کا نام اور میری دختر کا نام شامل ہے۔یہ میری سب سے بڑی دختر ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ سنتوش نگر میں رہتی ہیں اور ہم لوگ فلک نما میں رہتے ہیں۔میں ایک سینئر سٹیزن ہوں، میرا بیٹا یوکے میں کام کرتا ہے اور میرا بیٹا اس کی بیٹی کے لئے مینٹیننس کے طورپر 20 ہزار روپئے مہینہ دے رہا ہے ۔
اسکول کا خرچ، ایڈمیشن فیس، پڑھائی و دیگراخراجات بھی وہ برابر دے رہا ہے چونکہ اس کیس میں ابھی تک چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ ایسے حالات میں اس کیس کے معاملہ میں مجھ کو آگے کیا کرنا چاہئے؟ برائے کرم مشورہ دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
جواب : سب سے پہلے تو آپ کی جو بڑی دختر ہیں۔ اگر وہ الگ یا علیحدہ رہتی ہیں تو آپ پولیس سے تحریری درخواست کریں کہ ان کا نام اس کیس سے نکال دیا جائے کیونکہ ان کا کوئی تعلق آپ کے بیٹے کی فیملی کے معاملات سے نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر چارج شیٹ داخل ہوتی ہے تو آپ اس کی کاپی حاصل کیجئے اور کاپی لینے کے بعد میں اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پر غلط کیس بک کیا گیا ہے تو پھر آپ اس کو ہائی کورٹ میں کالعدم کرنے کے لئے باضابطہ درخواست داخل کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آپ کے بیٹے یوکے میں رہتے ہیں اور آپ لوگ یہاں مقیم ہیں، آپ لوگ سینئر سٹیزنس ہیں، ایسے کیسس جب طویل عرصہ تک جاری رہتے ہیں تو پھر ذہنی طور پر سکون بھی ختم ہو جاتا ہے۔
آپ کے بیٹے کے معاملہ میں ابھی ابتدائی زندگی ہے۔ آپ کے بیٹے کی 2019 میں شادی ہوئی ہے۔ چھ، سات سال کا معاملہ ہے۔ آگے اور بہت زندگی ہے۔ آپ کو کوشش کرنا چاہئے کہ کیا کوئی مفاہمت یا مصالحت کا راستہ نکل سکتا ہے۔؟ بڑے بزرگوں کی موجودگی یا میڈیشن یا بات چیت کے ذریعہ سے مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کریں۔
ہم لوگوں کو ایک بات سمجھنا چاہئے کہ جب رشتے خراب ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زندگی خراب اور ختم ہوچکی ہے۔ رشتوں کوٹھیک بھی کیا جا سکتا ہے یاپھر رشتوں پر ایک فل اسٹاپ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کسی بہت بڑے تھنکر نے یہ کہا ہے کہ :
There shall be happy marriages or easy Divorces.
اگر آپ مل کر رہنا چاہتے ہیں تو ہنسی خوش رہیئے۔ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔
ایک دوسرے سے عداوت و بغض نہ رکھیں۔ ایک دوسرے کے سکون کو غارت نہ کریں۔ خود بھی جیئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں۔ ہر دو کے لئے ایک بات یہ ہے کہ آپ جتنے بھی کیسس کرلیں، جتنی بھی شکایتیں پولیس اور عدالتوں سے کرلیں۔ کسی کا گھر بسا نہیں سکتے۔ کسی کی بھی شادی شدہ زندگی میں ایک مثبت رول پولیس اور عدالت کا نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں آپ کو چاہئے کہ مصالحت کی کوشش کریں۔ بعد ازاں قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کریں۔