حیدرآباد

ڈاکٹر بی بی خاشعہ کومیڈل

حصہ پیش کرنے میڈل اورتوصیفی سند حاصل کی پر مبارکباد جناب محمد اسماعیل ایڈووکیٹ مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا حافظ محمد عبد القیوم ودیگر پیش کیا

حیدرآباد: ڈاکٹر بی بی خاشعہ بنت ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری شاداں میڈیکل کالج حیدرآباد کو آئی ایم ایس اے انیشیٹو آف میڈیکوز فار سروس اینڈ اکیڈمکس حیدرآباد، تلنگانہ، انڈیا کے زیر اہتمام(IMSA Initiative of Medicos for Service and Academics Hyderabad, Telangana, INDIA)نے سورہ ملک کی تفسیر وغیرہ میں نمایاں اسلوب اس طرح ( پہلی آیت میں "الملک” کا کلمہ ہے اسی کو اس کا عنوان مقرر کردیا گیا ہے اس کی 30 آیتیں ہیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

اس کے مضامین سے پتہ چلتا ہے کہ عہد نبوت کے آغاز میں اس کا نزول ہوا۔ اس سورہ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی عظمت وجلال کے ذکر سے کی جا رہی ہے اور اس کا ذکر خود زبان قدرت سے ہورہا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اسے ہی زیب دیتا ہے کہ اپنی حمد و ثنا کرے۔ یہ بتا کر کہ حیات و موت کا تسلسل اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے فوراً انسان کی توجہ اس کی حکمت کی طرف موڑ دی کہ اس سے مقصد صرف تمہارا امتحان ہے کہ تم میں سے کون اپنی زندگی اچھے بلکہ اچھے سے اچھے کاموں کے لیے وقف کرتا ہے۔

 اس کے بعد اپنی قدرت وحکمت کے ثبوت کے لیے اپنی کائنات کو پیش کیا اور دنیا بھر کے نقادوں کو بار بار دعوت دی کہ اس میں کوئی عیب تلاش کریں یا ا س سے بہتر کوئی اور نقشہ تجویز کر کے دکھائیں۔ جب کسی کو جرأت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز پر انگشت نمائی کر سکے۔

اس سے بہتر تو کجا‘ اس کا متبادل بھی پیش کرنے سے ساری دنیا کے ماہرین عاجز ہیں۔ تو پھر نادان نہ بنو، اپنے سروں کو اس کے سامنے جھکا دو۔ اس کی وحدانیت اور اس کی تمام صفات کمال پر ایمان لے آو، ورنہ انجام بڑا اندوہناک ہوگا۔

ایسے دوزخ میں پھینک دیے جاؤ گے جس کے شعلے غیظ وغضب سے گرج رہے ہوں گے اس وقت تم اپنی غلطیوں کا اعتراف کرو گے، لیکن اس وقت اعتراف جرم کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔)

 حصہ پیش کرنے میڈل اورتوصیفی سند حاصل کی پر مبارکباد جناب محمد اسماعیل ایڈووکیٹ مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا حافظ محمد عبد القیوم ودیگر پیش کیا