جھینگا کھانا
فقہاء احناف کے نزدیک دریائی جانوروں میں صرف مچھلی کھانے کی اجازت ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے صرف مچھلی ہی کا استعمال فرمایا ہے؛
سوال: آج کل تقاریب ضیافت میں جھینگا کا زیادہ استعمال ہونے لگا ہے، اور کیکڑا بھی کھایا جاتا ہے، اس کی شریعت میں کیا احکام ہیں؟ (امام الدین، سعیدآباد)
جواب:فقہاء احناف کے نزدیک دریائی جانوروں میں صرف مچھلی کھانے کی اجازت ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے صرف مچھلی ہی کا استعمال فرمایا ہے؛
اس لئے کیکڑاکا کھانا احناف کے نزدیک تو بہر حال جائز نہیں ہے، شوافع کے یہاں اس سلسلہ میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے جائز اور بعض نے ناجائز قرار دیا ہے؛ اس لئے شوافع حضرات کے لئے بھی احتیاط اس سے بچنے میں ہے-
جہاں تک جھینگے کی بات ہے تو اس کا جائز وناجائز ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ وہ مچھلی میں شامل ہے یا نہیں؟ بعض حضرات نے اسے مچھلی مانا ہے؛ اس لئے وہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں، دوسری رائے ہے کہ یہ کیڑے مکوڑے میں شامل ہے، مچھلی نہیںہے؛
کیوں کہ ماہرین حیوانات نے مچھلی کی حقیقت میں تین چیزوں کو شامل مانا ہے، ایک: ریڑھ کی ہڈی، دوسرے: سانس لینے کا گلپھڑا تیسرے: تیرنے کے پنکھے، اور یہ تینوں چیزوں جھینگے میں موجود نہیں ہیں؛ اسی لئے بعض فقہاء نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے: لا یحل أکلہ أی کالفضد والسرطان (حاشیۃ الشبلی مع تبیین الحقائق: ۱؍۳۲)
اس حقیر کا رجحان یہ ہے کہ چوں کہ جھینگے کے حرام وحلال ہونے کے سلسلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے، اور خود علماء احناف کے درمیان بھی دونوں نقاط نظر نظر پائے جاتے ہیں؛ اس لئے اس کو بالکل حرام تو نہیں کہا جا سکتا ؛ لیکن کراہت سے خالی نہیں ہے۔